اسلام آباد(نیوز ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تیل کے شعبے سے وابستہ اعلیٰ حکام سے ملاقات کے دوران کہا ہے کہ چین اور روس کو وینزویلا کا تیل خریدنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاملے میں اپنی پالیسی کے تحت فیصلے کرے گا۔وائٹ ہاؤس میں ہونے والی گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی تیل کمپنیوں کو وینزویلا میں کام کرنے کے لیے مکمل سیکیورٹی ضمانت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ امریکا فوری طور پر وینزویلا کے تیل کو ریفائن کرنے اور عالمی منڈی میں فروخت کرنے کا عمل شروع کرے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق وینزویلا میں تیل کے کاروبار سے منسلک تاجروں اور کمپنیوں کو مکمل تحفظ دیا جائے گا، جس سے امریکی عوام کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک آئل ٹینکر کو تحویل میں لیا گیا تھا جو امریکی اجازت کے بغیر وینزویلا سے روانہ ہوا تھا، اور اس ٹینکر میں موجود تیل کو وینزویلا کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت فروخت کیا جائے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ وینزویلا میں امریکی فوج کی کارروائیاں انتہائی کامیاب رہیں اور انہیں تاریخ کی بہترین کارروائیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا تیل کے وسیع ذخائر رکھتا ہے اور اب یہ دیکھا جائے گا کہ آئل کمپنیاں وہاں کے انفراسٹرکچر کو کس طرح بہتر بناتی ہیں۔امریکی صدر نے مزید بتایا کہ وینزویلا میں تقریباً 100 ارب ڈالر تک کی سرمایہ کاری پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ حال ہی میں امریکا کو وینزویلا کی جانب سے 30 ملین بیرل تیل فراہم کیا گیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ بھی کیا جائے گا کہ کن تیل کمپنیوں کو وہاں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاہم تمام سودے براہِ راست امریکی حکومت کے ساتھ ہوں گے، وینزویلا کے ساتھ نہیں۔صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ آئندہ ہفتے تیل کمپنیوں کے نمائندوں کے ساتھ ایک اور اہم ملاقات کریں گے۔















































