منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

وفاقی حکومت کابجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ

datetime 5  جنوری‬‮  2026 |

اسلام آباد/لاہور( این این آئی) وفاقی حکومت نے بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط پر عائد کی گئی کیپٹو پاور لیوی کی رقم سے بجلی سستی کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کیپٹو پاور لیوی سے حاصل ہونے والی رقم کو ماہانہ بنیادوں پر بجلی کے بلوں میں ریلیف کی صورت میں منتقل کرنے کا منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے تاہم یہ ریلیف دو ماہ کے وقفے سے صارفین کو دینے کا پلان ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کیپٹو پاور لیوی کے ذریعے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے، جبکہ لیوی کی شرح میں اضافے کے ساتھ بجلی میں مزید ریلیف کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔

پاکستان نے کیپٹو پاور لیوی سے بجلی سستی کرنے کا منصوبہ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی شیئر کیا تھا۔واضح رہے کہ کیپٹو پاور پلانٹس پر مرحلہ وار 20 فیصد تک لیوی عائد کرنے کا قانون نافذ العمل ہے۔ اس لیوی سے حاصل ہونے والی رقم تمام کیٹیگریز کے بجلی صارفین کے لیے ٹیرف میں کمی پر استعمال کی جائے گی۔وفاقی حکومت نے جون 2025 میں کیپٹو پاور پلانٹس لیوی ایکٹ نافذ کیا تھا، جس کے تحت فوری طور پر 5 فیصد لیوی عائد کی گئی۔ دوسرے مرحلے میں لیوی کی شرح 10 فیصد ہوگی، فروری 2026 میں یہ شرح 15 فیصد تک بڑھا دی جائے گی، جبکہ اگست 2026 میں لیوی کو مزید بڑھا کر 20 فیصد کر دیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق لیوی کی عدم ادائیگی پر کیپٹو پاور پلانٹس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ مسلسل ڈیفالٹ کی صورت میں متعلقہ کیپٹو پاور پلانٹ کی گیس فراہمی منقطع کر دی جائے گی۔وفاقی حکومت یکم فروری 2025 سے کیپٹو پاور پلانٹس کے لیے گیس ٹیرف میں اضافہ بھی کر چکی ہے جس کے تحت گیس ٹیرف 3 ہزار روپے سے بڑھا کر ساڑھے 3 ہزار روپے کیا گیا تھا۔ اس اضافے کے بعد کیپٹو پاور پلانٹس پر لیوی عائد کی گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…