ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

عالمی طوفان کی پیش گوئی، جھوٹے نبی کا ڈراما بے نقاب، پولیس نے گرفتار کرلیا

datetime 29  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)افریقی ملک گھانا میں نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے شخص کا معاملہ مزید پیچیدہ صورت اختیار کر گیا ہے، جہاں مبینہ طور پر نامعلوم افراد نے اس کشتی کو نذرِ آتش کر دیا جسے عالمی آفت سے بچاؤ کی علامت سمجھا جا رہا تھا۔مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق خود کو نبی ظاہر کرنے والے شخص، جسے لوگ ایبو نوح کے نام سے جانتے ہیں، نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ 25 دسمبر 2025 کو دنیا بھر میں ایک شدید طوفان آئے گا اور صرف وہی افراد محفوظ رہیں گے جو اس کی بنائی ہوئی کشتیوں میں سوار ہوں گے۔

اس اعلان پر یقین کرتے ہوئے متعدد افراد نے اپنی جائیدادیں بیچ دیں اور کشتیوں میں جگہ حاصل کی۔حالیہ پیش رفت میں ایک نامعلوم فرد نے اس منصوبے کی نمائندہ سمجھی جانے والی کشتی کو آگ لگا دی۔ بعد میں یہ انکشاف ہوا کہ جلائی گئی کشتی دراصل کسی اور شخص کی ملکیت تھی، تاہم اس اقدام کو علامتی احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو گردش کرنے لگی، جس میں ایبو نوح کو ایک نئی مرسڈیز گاڑی میں دیکھا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ اس گاڑی کی قیمت تقریباً 89 ہزار ڈالر ہے اور اسے پیروکاروں سے اکٹھی کی گئی رقم سے خریدا گیا، جس پر عوام میں شدید غم و غصہ پھیل گیا۔گھانا کی سیکیورٹی فورسز نے جھوٹی معلومات پھیلانے اور عوام کو گمراہ کرنے کے الزام میں ایبو نوح کو حراست میں لے لیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ معاملے کی مکمل قانونی جانچ جاری ہے۔بعد ازاں ایبو نوح نے ایک اور ویڈیو پیغام میں دنیا کے خاتمے کی تاریخ ملتوی کرنے کا اعلان کیا اور دعویٰ کیا کہ اسے مزید مہلت دی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو مبینہ طور پر نجات کا موقع دیا جا سکے۔ اس نے مزید کشتیوں کی تیاری کا بھی اعلان کیا، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے کڑی تنقید سامنے آ رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…