ہفتہ‬‮ ، 15 اگست‬‮ 2026 

سائبر جرائم کے خلاف ’فوری عمل کی ضرورت

datetime 25  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلا م آباد(نیوز ڈیسک )برطانیہ میں متعدد اہم شخصیات نے انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم (سائبر جرائم) سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبہ برطانیہ کی ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کمپنی ٹاک ٹاک پر ہیکروں کے حملے کے بعد سامنے آیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ’سائبر کرائم پر قابو پانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ٹاک ٹاک کے بہت سے صارفین نے شکایت کی تھی کہ ہیکروں نے ان کے بینک اکاو¿نٹوں اور کریڈٹ کارڈوں کی رسائی حاصل کر لی ہے۔تاہم اب تک اس حملے کے باعث کسی براہِ راست نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ہلیری فوسٹر نامی ایک صارف نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے اکاو¿نٹ سے 600 پاو¿نڈ نکالے گئے ہیں۔ بینک کا کہنا ہے کہ یہ رقم انھیں واپس مل جائے گی۔
ایک اور صارف باربرا مینلی نے کہا کہ ایک شخص نے انھیں فون کر کے کہا کہ وہ ٹاک ٹاک سے بول رہا ہے۔ اس کے بعد بدھ کے روز ان کے خاوند کے اکاو¿نٹ سے نو ہزار پاو¿نڈ نکال لیے گئے۔
مینلی کی صاحبزادی سارا نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ٹاک ٹاک کو ’اس بارے میں خاصے عرصے سے معلومات تھیں لیکن انھوں نے اپنے صارفین کو خبردار نہیں کیا۔‘
ٹاک ٹاک نے کہا ہے کہ وہ ان شکایات کی تحقیقات کروا رہی ہے۔صارفین کا خیال ہے کہ ٹاک ٹاک نے اپنے صارفین کو خبردار کرنے میں بہت دیر کر دیمیٹروپولیٹن پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہیکنگ کے اس واقعے کی تفتیش شروع کر دی ہے۔حیرت انگیز خاموشی‘صارفین کو پہنچنے والے نقصانات کی خبریں ٹاک ٹاک کے اس اعلان کے دو روز بعد آئیں کہ اس پر سائبر حملہ ہوا ہے اور ہیکروں نے اس کے 40 لاکھ تک صارفین کی تفصیلات کی ممکنہ طور پر رسائی حاصل کر لی ہے۔ٹاک ٹاک کے کئی صارفین نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وہ اس حملے کے بعد کمپنی کے ردِ عمل سے ناخوش ہیں۔سابق وزیر ہیزل بلیرز نے کہا کہ ٹاک ٹاک کے ڈیٹا کی چوری تشویش ناک ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بارے میں مزید قانون سازی کرنے پر بات ہونی چاہیے ’کیوں کہ یہ ہماری معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔‘
کارپوریٹ مشیر اولیور پیری نے پولیس پر زور دیا کہ وہ سائبر کرائم کو فوری ترجیح بنائیں اور ’ڈیٹا کی چوری کی تفتیش اسی طرح کریں جیسے وہ سامان کی چوری کی تفتیش کرتے ہیں۔‘
لیبر کے رکنِ پارلیمان اور ہوم افیئرز کی سیلیکٹ کمیٹی کے چیئرمین کیتھ واز نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ٹاک ٹاک کے چیئرمین سر چارلز ڈن سٹون کو خط لکھ کر پوچھیں گے کہ انھوں نے حملے کا پتہ چلنے کے بعد کیااقدامات کیے۔انھوں نے کہا کہ کمپنی کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے صارفین کو ’فوری طور پر‘ آگاہ کر دیتی، اور یہ توجیہ کہ اس نے 36 گھنٹوں بعد ایسا کیا تھا ’لوگوں کی نظر میں قابلِ قبول نہیں ہو گی۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…