جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

فیض حمید نے 2 قیمتی گاڑیاں ثاقب نثار اور ان کے بیٹے کو دیں

datetime 16  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)ریٹائرڈ کرنل انعام الرحیم نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کی جانب سے جیل میں عمران خان سے رابطے قائم کرنے کی کوششوں سے متعلق تمام شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق فیض حمید نے ٹاپ سٹی کے مالک کی دو قیمتی گاڑیاں حاصل کر کے اُس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور ان کے صاحبزادے کو تحفے میں دیں، جن میں سے ایک گاڑی برآمد ہو چکی ہے اور کیس کا حصہ بنائی جا چکی ہے۔

نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کرنل (ر) انعام الرحیم نے کہا کہ جنرل فیض یہ اقدامات اس اعتماد کے ساتھ کر رہے تھے کہ سابق سربراہ آئی ایس آئی ہونے کے ناطے ان کا کوئی احتساب نہیں ہوگا اور معاملات دبے رہیں گے، تاہم موجودہ آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے فیصلہ کیا کہ ادارے کے اندر نظم و ضبط قائم کرنا ضروری ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دستیاب شواہد کے مطابق 9 مئی کے مقدمات میں مطلوب متعدد افراد اور کچھ یوٹیوبرز جنرل فیض کے فارم ہاؤس میں پناہ لیے ہوئے تھے، اور فیض حمید 9 مئی سے پہلے، دورانِ واقعات اور بعد میں ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے۔ انعام الرحیم کے مطابق جنرل فیض بار بار موبائل سمز تبدیل کرتے اور کسی ایک فرد کو نیا نمبر دے کر باقیوں تک پہنچانے کی ہدایت کرتے تھے، مگر انہیں یہ علم نہیں تھا کہ ان سے جڑے تمام افراد کی کالز ریکارڈ ہو رہی ہیں اور نئی سم چند ہی منٹوں میں سسٹم کا حصہ بن جاتی تھی۔کرنل (ر) انعام الرحیم نے مزید بتایا کہ جنرل فیض کی گرفتاری کے بعد جب فوج نے ان کا لیپ ٹاپ اور موبائل فون تحویل میں لیا تو ان میں کئی حساس اور خفیہ دستاویزات برآمد ہوئیں، جو ان کے پاس ہونا قواعد کے خلاف تھا۔

ان کے بقول، شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل فیض پی ٹی آئی کے بعض سیاسی رہنماؤں اور یوٹیوبرز سے رابطے میں تھے اور انہیں ہاتھ سے تحریر شدہ ٹویٹس اور یوٹیوب پروگراموں کے لیے مواد ارسال کرتے تھے، جو اب تحویل میں لے لیا گیا ہے۔انعام الرحیم کے مطابق جنرل فیض یہ تحریری مواد شوقیہ طور پر محفوظ رکھتے تھے تاکہ بوقتِ ضرورت استعمال کیا جا سکے، مگر درحقیقت وہ خود اپنے خلاف شواہد اکٹھے کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن اشیا کی برآمدگی ہوئی، انہیں جنرل فیض نے سمری ٹرائل کے دوران تسلیم بھی کر لیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…