اسلا م آباد(نیوز ڈ یسک )چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کے روز چنیوٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے جنرل سیکریٹری حسن مرتضیٰ سے ان کے والد کے انتقال پر تعزیت کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اس وقت کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو رہے، تاہم پی ٹی آئی کی پیدا کردہ سیاسی صورتحال حکومت کو آئینی راستوں پر غور کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔
انہی آئینی راستوں میں گورنر راج کا اختیار بھی شامل ہے۔سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف عدالتی فیصلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 14 سال قید کی سزا ایک قابلِ ذکر اور تاریخی اقدام ہے۔ ان کے بقول، فیض حمید کے مختلف معاملات پر مزید مقدمات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اپنی سیاسی جدوجہد میں انہوں نے دو بڑے “فرعون” دیکھے—ایک عمران خان، جو وزیر اعظم ہوتے ہوئے مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کی دھمکیاں دیتے رہے اور خواتین سیاست دانوں کو بھی نشانہ بنایا۔ آج وہ خود اسی انجام سے دوچار ہیں۔ دوسرے، جنرل (ر) فیض حمید تھے جنہوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے سیاستدانوں، میڈیا مالکان اور دیگر لوگوں کو دباؤ میں رکھا، اور اب وہ جواب دہ ہیں۔ بلاول نے کہا کہ انہیں اپنے اعمال پر اللہ سے معافی طلب کرنی چاہیے تاکہ ایسی روش دوبارہ کوئی نہ اپنائے۔27ویں آئینی ترمیم پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے بتایا کہ یہ ترمیم دراصل چارٹر آف ڈیموکریسی کے اہم نکات میں سے ایک ہے۔
پیپلز پارٹی طویل عرصے سے ایسی آئینی عدالت کے قیام کا مطالبہ کرتی آئی ہے جس میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی ہو۔ انہوں نے بتایا کہ عدالت کے چیف جسٹس کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے، جسے انہوں نے پیپلز پارٹی کے اصولی مؤقف کی کامیابی قرار دیا۔بلاول بھٹو کے مطابق این ایف سی ایوارڈ میں تبدیلی کے امکانات کو پیپلز پارٹی نے مسترد کیا، جس سے صوبائی وسائل کا تحفظ ممکن ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر این ایف سی میں ردوبدل ہوتا تو سب سے زیادہ نقصان پنجاب کو برداشت کرنا پڑتا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی مالی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 28ویں ترمیم یا نئے صوبوں کے قیام کے بارے میں پیپلز پارٹی سے کوئی بات نہیں کی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی مالی بدحالی کی ذمہ داری عوام یا صوبوں پر نہیں بلکہ وفاقی بیوروکریسی پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ایف بی آر مسلسل اپنے محصولات کے اہداف پورے کرنے میں ناکام رہتا ہے، اور اس کی کمزوریوں کا بوجھ عوام پر ڈالنا زیادتی ہے۔
انہوں نے اعادہ کیا کہ پیپلز پارٹی این ایف سی میں تبدیلی کی مخالف تھی، ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ تاہم ایک وفاقی جماعت ہونے کے ناتے پیپلز پارٹی ملکی معاشی مسائل حل کرنے میں کردار ادا کرنا چاہتی ہے۔معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ اگرچہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے معاشی اشاریوں میں بہتری آئی ہے، لیکن ابھی بہت سا کام باقی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ جب پی ڈی ایم نے حکومت سنبھالی تو پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر تھا۔ بلاول نے دعویٰ کیا کہ اب حالات میں بہتری آئی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔انہوں نے برآمدات بڑھانے اور زراعت کو مضبوط کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وفاق اور صوبوں کو زرعی شعبے کو زیادہ سہارا دینا چاہیے۔ بلاول کے مطابق پیپلز پارٹی نے چھوٹے کسانوں—خصوصاً 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والوں—کو کھاد اور زرعی ادویات فراہم کرکے ان کی مدد کی تاکہ زرعی پیداوار میں اضافہ ہو اور ملک اپنی زرعی برآمدات بڑھا سکے۔



















































