ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں ہر 10منٹ بعد ایک عورت قتل، اقوام متحدہ کی رپورٹ جاری

datetime 26  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

نیویارک(این این آئی)خواتین پر تشدد کے خاتمے کے بین الاقوامی دن کی مناسبت سے جاری یو این کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دنیا بھر میں ہر 10منٹ میں ایک عورت اپنے قریبی شخص کے ہاتھوں قتل ہو جاتی ہے۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم اور یو این ویمن کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق سال 2024میں تقریباً 50ہزار خواتین اور بچیاں اپنے شریک حیات یا خاندان کے افراد کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ دنیا بھر میں قتل ہونے والی خواتین میں سے 60فیصد کو ان کے شوہر، پارٹنر، والد، بھائی یا دیگر قریبی رشتہ داروں نے قتل کیا، جبکہ مردوں میں یہ شرح صرف 11فیصد ہے۔رپورٹ کے مطابق 50ہزار خواتین کے قتل کا مطلب ہے کہ روزانہ 137خواتین، یعنی ہر 10منٹ بعد ایک عورت اپنے ہی گھر یا خاندان میں قتل ہو رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ یہ تعداد گزشتہ برس سے کچھ کم ضرور ہے، لیکن اس کمی کو بہتری نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اس میں مختلف ممالک سے ڈیٹا کی فراہمی میں فرق کا کردار شامل ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق گھریلو تشدد اور خواتین کے قتل میں کوئی نمایاں کمی نظر نہیں آ رہی اور گھر اب بھی خواتین کے لیے سب سے خطرناک جگہ ثابت ہو رہا ہے۔عالمی سطح پر سب سے زیادہ کیسز افریقہ میں رپورٹ ہوئے، جہاں گزشتہ سال تقریباً 22ہزار خواتین قتل ہوئیں۔یو این ویمن کی پالیسی ڈویژن کی ڈائریکٹر سارہ ہینڈریکس نے کہا کہ اکثر قتل کنٹرولنگ رویوں، دھمکیوں اور ہراسانی سے شروع ہوتے ہیں، جن میں اب آن لائن ہراسیت بھی شامل ہو گئی ہے۔رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ٹیکنالوجی کے پھیلا نے خواتین کے خلاف بعض جرائم کو بڑھا دیا ہے، جن میں بغیر اجازت تصاویر شیئر کرنا اور ڈیپ فیک ویڈیوز جیسے نئے خطرات شامل ہیں۔اقوام متحدہ نے مطالبہ کیا کہ ایسے قوانین نافذ کیے جائیں جو آن لائن اور آف لائن تشدد کو روکنے میں مثر ثابت ہوں اور قاتلوں کا بروقت احتساب ممکن بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…