اسلام آباد (این این آئی) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے جی الیون میں کچہری کے باہر پولیس کی گاڑی پر خْودکش دھماکے کے نتیجے میں 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوگئے ،زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔ سر کاری ٹی وی کے مطابق اسلام آباد جی الیون کچہری کے باہر بھارتی اسپانسرڈ اور افغان طالبان کی پراکسی فتنہ الخوارج نے خودکش دھماکا کیا، وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکے، موقع ملنے پر بمبار نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اْڑا دیا۔ابتدائی رپورٹ کے مطابق دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ آئے۔پمز ہسپتال کے ذرائع نے بتایا کہ اب تک کی رپورٹ کے مطابق 12 افراد کی لاشیں اور 20 سے 22 زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے 27 زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔
سر کاری ٹی وی کے مطابق مبینہ خودکش بمبار کا سر سڑک پر پڑا ہوا مل گیا ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق خودکش دھماکا کچہری کے باہر ہوا جس کی زد میں آس پاس کھڑے لوگ بھی آئے، پارکنگ ایریا میں دھماکے سے آگ لگ گئی اور قریب کھڑی گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آگئیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نریندر مودی دہلی میں فالس فلیگ کروا رہا ہے اور ادھر اپنی پراکسیز افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ذریعے پہلے وانا کیڈٹ کالج اور اسلام آباد میں دہشت گردی کروائی۔قبل ازیں دھماکے کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے میں وکلا بھی زخمی ہوئے ہیں۔
کچہری کے باہر دھماکے کے بعد عمارت خالی کرا لی گئی، وکلا، ججز اور سائلین کو کچہری سے نکال دیا گیا، جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی حصے کی طرف شہریوں اور وکلا کو نکالا گیا، ججز کو بھی روانہ کیا گیا۔پولیس حکام کے مطابق دھماکا کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑی میں ہوا ہے، دارالحکومت میں دھماکے کی آواز دور تک سنی گئی، اور دھماکے کے باعث لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا تھا۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اسلام آباد جی الیون کے علاقے میں خودکش بمبار کے حملے کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچے، انہوں نے ریسکیو سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور زخمیوں کے بہترین علاج معالجے کے لیے ہدایات جاری کیں۔وزیر داخلہ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ خود کش حملے میں اب تک 12 افراد شہید اور 27 زخمی ہوئے ہیں، زخمیوں کا علاج کیا جارہا ہے۔محسن نقوی نے کہا کہ فول پْروف سیکیورٹی کی بدولت خودکش بمبار کچہری میں داخل نہیں ہوسکا، خودکش حملہ آوروں کے افغانستان میں کمیونی کیشن کی معلومات تھیں، ہمیں اپنے ملک کو دیکھنا ہے سب سے پہلے پاکستان ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ سخت سیکیورٹی کی وجہ سے حملہ آور کچہری میں داخل نہیں ہوسکے، موقع ملنے پر بمبار نے پولیس کی گاڑی کے قریب خود کو اْڑایا۔



















































