بدھ‬‮ ، 04 فروری‬‮ 2026 

ایس پی عدیل اکبر کو حادثاتی طور پر گولی لگنے کا شبہ

datetime 27  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد پولیس میں تعینات ایس پی عدیل اکبر کی موت سے متعلق نئے انکشافات سامنے آئے ہیں، جن میں ان کی ہلاکت کو خودکشی نہیں بلکہ حادثاتی گولی لگنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پولیس حکام نے بتایا کہ ابتدائی شواہد اور فرانزک رپورٹ کے تجزیے سے یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ گولی حادثاتی طور پر چلی۔ پولیس ذرائع کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان (PSP) سے وابستہ افسران عام طور پر سب مشین گنز (SMGs) کے استعمال کی باقاعدہ تربیت نہیں رکھتے۔

فرانزک ماہرین نے بتایا ہے کہ واقعے میں استعمال ہونے والی ایس ایم جی تقریباً 65 ڈگری زاویے پر فائر ہوئی، جس سے یہ امکان بڑھ گیا ہے کہ ایس پی عدیل اکبر نے جان بوجھ کر نہیں بلکہ غلطی سے خود کو گولی مار لی۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے وقت گاڑی میں موجود آپریٹر اور ڈرائیور کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ حکام دونوں سے واقعے کے دوران ہونے والی گفتگو، ایس پی عدیل اکبر کے موبائل فون پر موصول ہونے والی کالز اور اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ انہوں نے اسلحہ کیوں مانگا اور انہیں کیوں دیا گیا۔

زیر حراست آپریٹر نے اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بتایا کہ ایس پی عدیل اکبر اپنی پروموشن سے متعلق ملاقات کے لیے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن جا رہے تھے۔ ان کے مطابق، 4 بج کر 23 منٹ پر ایس پی عدیل اکبر کو ایک کال موصول ہوئی جس کے بعد انہوں نے ڈرائیور کو دفترِ خارجہ جانے کی ہدایت دی۔ وہ وہاں کچھ کاغذات کی تصدیق کے لیے گئے اور کچھ دیر بعد واپس آگئے۔

آپریٹر کے بیان کے مطابق، واپس آنے کے بعد ایس پی عدیل اکبر کو ایک اور فون کال موصول ہوئی۔ اس کے فوراً بعد انہوں نے ایک نجی ہوٹل کے سامنے مجھ سے گن مانگی۔ “میں نے گن کا میگزین نکال کر انہیں دیا۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ گن چلتی بھی ہے یا نہیں؟ لاؤ میگزین دے دو، اس میں کتنی گولیاں ہیں؟” میں نے جواب دیا کہ “اس میں 50 گولیاں ہیں” اور میگزین انہیں دے دیا۔

آپریٹر نے مزید بتایا کہ ایس پی عدیل اکبر گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھے تھے جبکہ وہ اور ڈرائیور آگے موجود تھے۔ عدیل اکبر نے میگزین لگا کر گن لوڈ کی، اور چند لمحوں بعد اچانک فائرنگ کی آواز سنائی دی۔ “جب ہم نے پیچھے دیکھا تو گولی ان کے ماتھے پر لگی تھی جو سر کے پچھلے حصے سے نکل گئی۔ وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔”

ان کے مطابق، اطلاع فوراً کنٹرول روم کو دی گئی اور ڈرائیور کے ہمراہ لاش کو فوری طور پر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ فائر واقعی حادثاتی تھا یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ پوشیدہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…