جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

علاقے کلیئر ہوگئے تھے تو دہشت گردوں کو واپس کون لایا؟، سہیل آفریدی

datetime 18  اکتوبر‬‮  2025 |

پشاور (این این آئی)وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ علاقے کلیئر ہوگئے تو پھر کون ان دہشت گردوں کو واپس لایا؟ ہم آپریشنز کے مخالف ہیں اس میں نقصانات زیادہ، مسائل بڑھتے ہیں، صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیسے امن ہوگا؟۔سابق وزیر مینا خان کے ہمراہ سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ صوبہ ہم سب کا ہے، گزشتہ حکومت میں ہم تھوڑے کمزور تھے، جوغلطیاں ہوں ان پر تنقید ضرور کریں لیکن صوبے کو نقصان نہ پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے کسی کے خلاف نہیں اتارا گیا، ہم تو قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں، ہم عدالتوں میں جنگ لڑرہے ہیں اںصاف نہ ملا تو احتجاج ہی کریں گے، فوج آرٹیکل 245 کے تحت آتی ہے، علاقے کلیئر ہوگئے تو پھر کون ان دہشت گردوں کو واپس لایا؟ ان دہشت گردوں کی دوبارہ آبادکاری کے بعد پھر آپریشن بڑے اور چھوٹے آپریشنز ہوئے، آپریشنز کے ہم مخالف ہیں اس میں ںقصانات ہوتے ہیں اورمسائل بڑھتے ہیں، صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیسے امن ہوگا؟۔وزیراعلی نے کہاکہ صنم جاوید کے حوالے سے خاص نہیں جنرل ہدایات تھیں، یہ ہدایت تمام ورکروں کے حوالے سے تھیں کہ کسی سیاسی ورکر کو گرفتار نہ کیا جائے، صنم جاوید سے متعلق رپورٹ ملی ہے لیکن مطمئن نہیں ہوں دوبارہ رپورٹ لوں گا۔افغانستان کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ افغانستان سمیت جو بھی حملہ کرے گا اس کو جواب ملے گا، یہاں سے 8 لاکھ افغان مہاجرین واپس گئے، 12 لاکھ کو اب بھی ہیں باعزت طریقے سے بھجوائیں گے، واپسی کا عمل تیز کرنے کے لیے تھری فور ونڈو آپریشن کیا جائے گا، افغان مہاجرین نے اتنا وقت یہاں گزارا تو باعزت طریقے سے واپس جائیں، افغان مہاجرین کے حوالے سے ہمارا موقف یہی ہے کہ انہیں زبردستی واپس نہیں بھیجا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ میں حکومت چلانے نہیں تبدیلی کے لیے آیا ہوں، عمران سے ملاقات کا وقت نہ ملا تو مشاورت سے کابینہ کی تشکیل کی جائے گی، چیف سیکریٹری اور آئی جی پی فی الحال یہی رہیں گے۔سہیل آفریدی نے کہاکہ پہلے مجھے ٹارگٹ کیا گیا پھر آئینی عمل روکا گیا کیا یہ طریقہ ہے؟ میں نے چیف جسٹس کو خط لکھا اور ہائی کورٹ میں رٹ داخل کی کہ جو اعتراضات دور کرکے پیر کو دوبارہ دائر کروں گا۔وزیراعلی نے کہا کہ اگر ہمیں راستہ نہ ملا تو مزاحمت تو کریں گے، پنجاب حکومت نے راستہ روکا ہے اس پر ہم نے احتجاج کیا ہے، میرافوکس امن و امان ترقیاتی کاموں اور گڈ گورننس پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اگر انصاف ہوتا تو بانی جیل میں نہ ہوتا، ایڈوائزری کونسل کی بات نہ تو پارٹی میں ہوئی نہ کسی نے بات کی، بحیثیت ورکر پارٹی تنظیم اور وزیراعلی کے طور پر صرف بانی کو جواب دہ ہوں جس کا عمران خان کہیں گے وہی کابینہ میں ہوگا، کابینہ کے اہل اور نااہل ارکان کے بارے میں بانی کو بتاں گا، بانی نے ابھی صرف مزمل اسلم کو کابینہ کے لیے کنفرم کیا ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف کوئی بھی جارحیت کرے تو ہم فوج کے ساتھ کھڑے ہوں گے، افغانستان کے حوالے سے جو بھی پالیسی ہو اس پر ہمیں اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سول پاورز ایکشن ان ایڈ کے خاتمے کا فیصلہ کابینہ کے پہلے اجلاس میں کیا جائے گا، میں متفق ہوں کہ حکومت کو پارٹی کے کام نہیں کرنے چاہئیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…