منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

روس نے بھارت کی درخواست مسترد کر دی، پاکستان کو جدید RD-93MA انجن کی فراہمی جاری

datetime 6  اکتوبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن اور عالمی اتحادوں کی بدلتی صف بندی کے پس منظر میں روس نے بھارت کی بار بار کی درخواستوں کے باوجود پاکستان کو RD-93MA ٹربوفین انجن کی برآمد روکنے سے انکار کر دیا ہے۔

ویب سائٹ ڈیفنس سیکیورٹی ایشیا کے مطابق یہ جدید انجن روس کی یونائیٹڈ انجن کارپوریشن (UEC-Klimov) تیار کرتی ہے، جو پاک فضائیہ کے جدید ترین JF-17 تھنڈر بلاک تھری طیاروں کا بنیادی پاور سورس ہے۔ یہ طیارے چین کے اشتراک سے تیار کیے گئے ہیں۔ بھارت نے 2025 میں بڑھتی ہوئی پاک-بھارت کشیدگی کے دوران روس پر سفارتی دباؤ بڑھایا تاکہ ماسکو اسلام آباد کی فضائی طاقت میں اضافے کو روک سکے، تاہم روس نے نئی دہلی کے خدشات کو نظرانداز کرتے ہوئے انجن کی فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف دہائیوں پر محیط بھارت-روس دفاعی تعلقات کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ اس وسیع تر تبدیلی کا حصہ بھی ہے جس میں روس اب اپنی دفاعی تجارت کو مغرب سے ہٹ کر چین اور پاکستان کی جانب موڑ رہا ہے۔

دوسری جانب، پاکستان کے لیے RD-93MA انجن کا JF-17 بلاک تھری میں انضمام اس کے فضائی بیڑے کو نئی طاقت بخشتا ہے، جو بھارت کے جدید لڑاکا طیاروں کے مقابلے میں ٹیکنالوجی کا فرق نمایاں حد تک کم کر دیتا ہے۔ یہ طیارے PL-15 طویل فاصلے کے میزائلوں سے لیس ہو کر بھارتی فضائیہ کے قیمتی اہداف کو گہرے متنازع فضائی حدود میں نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل کر لیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ان جدید JF-17 طیاروں کی تعیناتی لائن آف کنٹرول کے ساتھ بھارت کے فضائی دفاعی نظام کے لیے نئی پیچیدگیاں پیدا کرے گی، جس کے باعث بھارتی فضائیہ کو مزید رافیل اور Su-30MKI طیارے گشت پر تعینات کرنے پڑ سکتے ہیں۔

روس کا بھارت کی مخالفت کے باوجود انجن فراہمی کا فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ ماسکو اب نئی دہلی کو کوئی خصوصی پارٹنر نہیں سمجھتا بلکہ اسے دیگر خریداروں کی صف میں ایک عام گاہک کے طور پر دیکھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…