بدھ‬‮ ، 01 جولائی‬‮ 2026 

مسلم رہنماؤں کو پیش کیےگئے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبےکی تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 25  ستمبر‬‮  2025 |

نیویارک(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ غزہ میں امن کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، ترکیے، انڈونیشیا اور پاکستان کے سربراہان کو پیش کیا گیا اور اب غیر ملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے اس حوالے سے کچھ تفصیلات رپورٹ کی ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے خدشات کو مدنظر رکھا گیا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ اس منصوبے میں اصل میں کیا شامل ہے؟۔

اے ایف پی کی جانب سے رپورٹ کی گئیں تفصیلات کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے میں غزہ میں مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کے انخلا اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی شامل ہے۔عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا اور ساتھ ہی اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور غزہ پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ٹرمپ کے مشرقِ وسطی کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ یہ ٹرمپ کا 21 نکاتی امن منصوبہ ہے جو اسرائیل اور خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کے خدشات کو حل کرتا ہے۔امریکی ویب سائٹ ایکزیوس کے مطابق ٹرمپ نے عرب اور مسلم رہنماں کو خبردار کیا کہ جنگ فورا ختم ہونی چاہیے ورنہ اسرائیل مزید عالمی تنہائی کا شکار ہوگا۔ذرائع کے مطابق امریکی منصوبے میں غزہ کے لیے ایک نیا نظام حکومت تجویز کیا گیا ہے جس میں حماس شامل نہیں ہوگی۔

اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ حماس کا مستقبل کی انتظامیہ میں کوئی کردار نہیں ہوسکتا۔عرب اور اسلامی رہنماؤں نے زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اسے غزہ اور مغربی کنارے دونوں کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے بااختیار بنایا جائے۔رپورٹس کے مطابق منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کا کردار، ایک مشترکہ سکیورٹی فورس (جس میں فلسطینیوں کے ساتھ عرب و مسلم ممالک کے فوجی شامل ہوں گے)اور خطے کے ممالک سے مالی مدد شامل ہے تاکہ تعمیرِ نو مدد اور نئی انتظامیہ کو سہارا دیا جا سکے۔عرب و اسلامی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی کنارے کے حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوئی کوشش نہ ہو اور نہ ہی مقبوضہ بیت المقدس میں مذہبی مقامات کی حیثیت تبدیل کی جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ کے شہریوں کو بے دخل کرنے یا ان کی واپسی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے۔ایکزیوس کے مطابق ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے کسی حصے ضم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گلاس برج سے


ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…