ہفتہ‬‮ ، 14 فروری‬‮ 2026 

مسلم رہنماؤں کو پیش کیےگئے ٹرمپ کے غزہ جنگ بندی منصوبےکی تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 25  ستمبر‬‮  2025 |

نیویارک(این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ غزہ میں امن کے لیے ایک نیا منصوبہ پیش کیا ہے۔یہ منصوبہ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر، مصر، اردن، ترکیے، انڈونیشیا اور پاکستان کے سربراہان کو پیش کیا گیا اور اب غیر ملکی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے اس حوالے سے کچھ تفصیلات رپورٹ کی ہیں۔ امریکا کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے خدشات کو مدنظر رکھا گیا ہے تاہم سوال یہ ہے کہ اس منصوبے میں اصل میں کیا شامل ہے؟۔

اے ایف پی کی جانب سے رپورٹ کی گئیں تفصیلات کے مطابق ٹرمپ کے منصوبے میں غزہ میں مستقل جنگ بندی، یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیلی فوج کے انخلا اور بڑے پیمانے پر انسانی امداد کی فراہمی شامل ہے۔عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں نے اس تجویز کا خیرمقدم کیا اور ساتھ ہی اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور غزہ پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ٹرمپ کے مشرقِ وسطی کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے کہا کہ یہ ٹرمپ کا 21 نکاتی امن منصوبہ ہے جو اسرائیل اور خطے کے تمام ہمسایہ ممالک کے خدشات کو حل کرتا ہے۔امریکی ویب سائٹ ایکزیوس کے مطابق ٹرمپ نے عرب اور مسلم رہنماں کو خبردار کیا کہ جنگ فورا ختم ہونی چاہیے ورنہ اسرائیل مزید عالمی تنہائی کا شکار ہوگا۔ذرائع کے مطابق امریکی منصوبے میں غزہ کے لیے ایک نیا نظام حکومت تجویز کیا گیا ہے جس میں حماس شامل نہیں ہوگی۔

اسرائیل پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ حماس کا مستقبل کی انتظامیہ میں کوئی کردار نہیں ہوسکتا۔عرب اور اسلامی رہنماؤں نے زور دیا کہ فلسطینی اتھارٹی کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے اور اسے غزہ اور مغربی کنارے دونوں کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے بااختیار بنایا جائے۔رپورٹس کے مطابق منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کا کردار، ایک مشترکہ سکیورٹی فورس (جس میں فلسطینیوں کے ساتھ عرب و مسلم ممالک کے فوجی شامل ہوں گے)اور خطے کے ممالک سے مالی مدد شامل ہے تاکہ تعمیرِ نو مدد اور نئی انتظامیہ کو سہارا دیا جا سکے۔عرب و اسلامی رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مغربی کنارے کے حصوں کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوئی کوشش نہ ہو اور نہ ہی مقبوضہ بیت المقدس میں مذہبی مقامات کی حیثیت تبدیل کی جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غزہ کے شہریوں کو بے دخل کرنے یا ان کی واپسی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے۔ایکزیوس کے مطابق ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ اسرائیل کو مغربی کنارے کے کسی حصے ضم کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…