اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اگرچہ دنیا کے کئی ممالک میں ابھی 5 جی ٹیکنالوجی مکمل طور پر متعارف نہیں ہو سکی، مگر ماہرین آئندہ نسل کی موبائل انٹرنیٹ ٹیکنالوجی پر تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں چین نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے دنیا کی پہلی 6 جی چپ متعارف کرا دی ہے۔یہ آل فریکوئنسی 6 جی چپ 100 جی بی فی سیکنڈ سے زائد کی ناقابلِ یقین رفتار فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے تحقیقاتی نتائج معروف سائنسی جرنل نیچر میں شائع ہوئے ہیں، جن کے مطابق اس چپ کے ذریعے 50 جی بی کی 8K ایچ ڈی فلم محض چند سیکنڈز میں منتقل کی جا سکتی ہے۔فی الحال زیادہ تر 5 جی اسمارٹ فونز 3 گیگا ہرٹز پر کام کر رہے ہیں جبکہ سیٹلائیٹس 30 گیگا ہرٹز فریکوئنسی استعمال کرتے ہیں۔
مستقبل کی ڈیوائسز کے لیے 100 گیگا ہرٹز تک کی فریکوئنسیز درکار ہوں گی، جو ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے۔ تاہم، چینی سائنسدانوں نے اس مسئلے کے لیے کئی مؤثر حل پیش کیے ہیں۔محققین کا کہنا ہے کہ انہوں نے 0.5 گیگا ہرٹز سے لے کر 115 گیگا ہرٹز تک کے وائرلیس اسپیکٹرم کو ایک ایسی چپ میں سمو دیا ہے جس کا سائز انگوٹھے کے ناخن جتنا ہے۔ یہ چپ مختلف اسپیکٹرمز میں آسانی سے سوئچ کر سکتی ہے اور ملی میٹر ویو کے ساتھ ساتھ ٹیرا ہرٹز کمیونیکیشنز کو بھی سپورٹ کرتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 6 جی ٹیکنالوجی کے فروغ میں حائل رکاوٹوں کو جلد دور کرنا ضروری ہے کیونکہ کنیکٹڈ ڈیوائسز کی بڑھتی ہوئی طلب مستقبل میں مزید مضبوط اور تیز رفتار نیٹ ورکس کا تقاضا کرتی ہے۔ ہائی فریکوئنسی بینڈز جیسے ملی میٹر ویو اور ٹیرا ہرٹز وسیع بینڈ وڈتھ اور نہایت کم لیٹنسی فراہم کرتے ہیں، جس کی بدولت وہ ورچوئل رئیلٹی، ریموٹ سرجری اور جدید صنعتی ایپلیکیشنز کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔