اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آپریشنز متحدہ عرب امارات کے سپرد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، یہ عمل حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) ماڈل کے تحت مکمل ہوگا۔ذرائع کے مطابق، نائب وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے بین الحکومتی کمرشل معاہدات کا اجلاس ہوا، جس میں ایئرپورٹ کے انتظامات یو اے ای کے حوالے کرنے کی منظوری دی گئی۔جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے ایک مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جس کی قیادت وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری کریں گے۔
ٹیم میں وزارت دفاع، وزارت خزانہ، وزارت قانون و انصاف اور وزارت نجکاری کے نمائندے شامل ہوں گے، جو متحدہ عرب امارات کے ساتھ معاہدے کی شرائط طے کریں گے۔حکام کے مطابق، یہ اقدام پاکستان کی معیشت کی بحالی کی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر ملکی شراکت داروں کے تعاون سے سرکاری اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا، نقصانات کم کرنا اور جدید سہولتیں فراہم کرنا ہے۔ مزید یہ کہ دیگر بڑے ایئرپورٹس کو بھی اسی طرز پر آؤٹ سورس کرنے پر غور جاری ہے۔
اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جو 2018 میں فعال ہوا، عرصے سے مالی مشکلات اور انتظامی مسائل کا شکار ہے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ یو اے ای کے ساتھ جی ٹو جی شراکت داری سے مسافروں کو عالمی معیار کی سہولتیں میسر آئیں گی، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا اور ایوی ایشن سیکٹر میں بہتری آئے گی۔اجلاس میں وزیر پٹرولیم، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔