منگل‬‮ ، 27 جنوری‬‮ 2026 

ڈی این اے نے 40 سالہ شادی کا پول کھول دیا: بچے کسی اور کے نکلے

datetime 1  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بحرین میں ایک شخص کو چار دہائیوں بعد یہ صدمہ انگیز حقیقت معلوم ہوئی کہ وہ جن بچوں کو اپنا سمجھ کر پال پوس رہا تھا، وہ درحقیقت اس کے حیاتیاتی بچے ہی نہیں ہیں۔یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب مذکورہ شخص کو ایک طبی معائنے کے دوران پتہ چلا کہ وہ قدرتی طور پر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔

اس طبی حقیقت نے شکوک کو جنم دیا، جس کے بعد بچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بات واضح ہو گئی کہ اس کا ان بچوں سے کوئی حیاتیاتی تعلق موجود نہیں۔اس انکشاف کے بعد معاملہ عدالت میں پہنچا، جہاں بحرین کی ہائی شریعت کورٹ نے سائنسی شواہد کی روشنی میں فیصلہ سناتے ہوئے اسے بچوں کا قانونی والد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ سرکاری ریکارڈز سے اس شخص کا نام بچوں کے والد کے طور پر نکال دیا جائے اور تمام دستاویزات کو اس نئی حقیقت کے مطابق اپڈیٹ کیا جائے۔مدعی کے وکیل، ابتسام الصباغ، نے اس مقدمے کو سچائی اور عدل کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جذبات سے ہٹ کر مکمل طور پر سائنسی حقائق اور شریعت کی روشنی میں فیصلہ دیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں جعفری فقہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگرچہ نکاح، اقرار یا گواہوں کی بنیاد پر پدری نسبت قائم کی جا سکتی ہے، مگر جب سائنسی شہادت کسی تعلق کو ممکن نہ سمجھے تو شرعی اصول بھی اس سے روگردانی نہیں کر سکتے۔یہ فیصلہ اس بات کی نظیر ہے کہ اسلامی فقہ میں بھی جدید سائنسی حقائق کو اہمیت دی جاتی ہے، خاص طور پر جب وہ ناقابل تردید ہوں اور کسی انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



قم میں آدھا دن


ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…