ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈی این اے نے 40 سالہ شادی کا پول کھول دیا: بچے کسی اور کے نکلے

datetime 1  اگست‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بحرین میں ایک شخص کو چار دہائیوں بعد یہ صدمہ انگیز حقیقت معلوم ہوئی کہ وہ جن بچوں کو اپنا سمجھ کر پال پوس رہا تھا، وہ درحقیقت اس کے حیاتیاتی بچے ہی نہیں ہیں۔یہ معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب مذکورہ شخص کو ایک طبی معائنے کے دوران پتہ چلا کہ وہ قدرتی طور پر اولاد پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔

اس طبی حقیقت نے شکوک کو جنم دیا، جس کے بعد بچوں کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بات واضح ہو گئی کہ اس کا ان بچوں سے کوئی حیاتیاتی تعلق موجود نہیں۔اس انکشاف کے بعد معاملہ عدالت میں پہنچا، جہاں بحرین کی ہائی شریعت کورٹ نے سائنسی شواہد کی روشنی میں فیصلہ سناتے ہوئے اسے بچوں کا قانونی والد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ سرکاری ریکارڈز سے اس شخص کا نام بچوں کے والد کے طور پر نکال دیا جائے اور تمام دستاویزات کو اس نئی حقیقت کے مطابق اپڈیٹ کیا جائے۔مدعی کے وکیل، ابتسام الصباغ، نے اس مقدمے کو سچائی اور عدل کا معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جذبات سے ہٹ کر مکمل طور پر سائنسی حقائق اور شریعت کی روشنی میں فیصلہ دیا ہے۔

عدالتی فیصلے میں جعفری فقہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگرچہ نکاح، اقرار یا گواہوں کی بنیاد پر پدری نسبت قائم کی جا سکتی ہے، مگر جب سائنسی شہادت کسی تعلق کو ممکن نہ سمجھے تو شرعی اصول بھی اس سے روگردانی نہیں کر سکتے۔یہ فیصلہ اس بات کی نظیر ہے کہ اسلامی فقہ میں بھی جدید سائنسی حقائق کو اہمیت دی جاتی ہے، خاص طور پر جب وہ ناقابل تردید ہوں اور کسی انسان کی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…