ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فضائیہ کے سابق آفیسر نے ایئر ڈیفنس کی حقیقت کا پردہ چاک کردیا

datetime 25  جولائی  2025 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی فضائیہ کے سابق آفیسر ہرجیت سنگھ نے بھارتی فوج کے اندر پھیلی افراتفری، ذہنی عدم توازن اور فیصلہ سازی کی ناکامی کو بے نقاب کردیا ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ہرجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ بھارتی ایئر ڈیفنس میں شدید ذہنی دبا اور نفسیاتی مسائل کے حامل بہت سیافسران ہیں۔ بھارتی فوج کا ایئر ڈیفنس نظام دراصل ایک افسوسناک کہانی اور کھلا مذاق ہے۔ ایئر ڈیفنس جوائن کرلو، پرسکون زندگی گزارو۔ہرجیت سنگھ نے کہا کہ بھارتی فوج میں ہر افسر جنرل کے منصب کے لیے کوشاں ہوتا ہے۔

یہی دبا بھارتی ایئر ڈیفنس میں شدید ذہنی دبا اور نفسیاتی مسائل کو جنم دیتا ہے۔ میں نے خود ایئر ڈیفنس آرٹلری میں کئی نفسیاتی مسائل کے حامل افسران دیکھے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ہرجیت سنگھ نے مزید کہا کہ اگر بھارتی ایئر ڈیفنس کا اصل ساز و سامان دیکھیں تو صورتحال اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ بھارتی ایئر ڈیفنس کے پاس آج بھی تقریبا 80 فیصد ایئر ڈیفنس توپیں موجود ہیں۔ یہ توپیں جدید جنگی ماحول میں مکمل طور پر بیکار ہو چکی ہیں۔ہرجیت سنگھ کے مطابق آج کے ڈرونز، کروز میزائلز اور ہائپرسانک ٹیکنالوجی کے دور میں یہ توپیں کہاں استعمال ہوں گی؟۔

بھارتی ایئر ڈیفنس کے ڈرونز بھی نہایت کم معیار کے ہیں، یہ بمشکل قابلِ پرواز ہوتے ہیں۔ بھارتی ایئر ڈیفنس کا افسر کہتاتھا کہ میں ریڈار آن نہیں کر سکتا، کیونکہ اس کا پتا چل جائے گا۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ جب ریڈار ہی نہیں چلے گا تو دشمن کے طیارے، میزائل یا ڈرونز کا پتا کیسے لگے گا؟یہ تمام حقائق بھارتی فوج کے ایئر ڈیفنس نظام کی نااہلی اور اندرونی خرابیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ بھارتی ایئر ڈیفنس آج بھی ایک غیر مثر، فرسودہ اور ناتجربہ کار ڈھانچے پر قائم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…