ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فضائیہ کی ناکامی اور مودی سرکار کی پردہ پوشی بے نقاب

datetime 19  جولائی  2025 |

لندن (این این آئی)برطانوی جریدے نے بھارتی فضائیہ کی عبرتناک ناکامی اور مودی سرکار کی پردہ پوشی کو بے نقاب کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق معرکہ حق کے دوران پاکستان کے ہاتھوں جدید طیارے گنوا کر بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے معرکہ حق میں بھارتی فضائیہ کے جدید طیارے گرا کر دشمن کی طاقت کا غرور خاک میں ملا دیا۔ دی اکانومسٹ کے مطابق بھارت کے کم از کم پانچ طیارے تباہ ہوئے جن میں مہنگے رافیل بھی شامل تھے۔بھارتی چیف آف ڈیفنس جنرل انیل چوہان نے تسلیم کیا کہ جنگی غلطیوں کی وجہ سے بھارت نے طیارے کھوئے۔

بھارتی دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے بھی اعتراف کیا کہ سیاسی قیادت نے پاکستانی فوجی تنصیبات پر حملے کی اجازت نہیں دی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی رافیل طیارے سپیکٹرا وار سسٹم ہونے کے باوجود پاکستانی میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہے، جبکہ ان طیاروں پر نہ میٹیور میزائل نصب تھے اور نہ ہی جدید سافٹ ویئر اور الیکٹرانک جمنگ سسٹم موجود تھا۔بھارت میں رافیل طیارے کی ناکامی پر فوجی حلقوں کی جانب سے داسوٹ کمپنی پر تنقید کی جا رہی ہے اور کمپنی پر سافٹ ویئر شیئر نہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دی اکانومسٹ نے انکشاف کیا کہ چین نے پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ رئیل ٹائم ٹارگٹنگ ڈیٹا بھی فراہم کیا۔ ر پورٹ کے مطابق مودی سرکار کی ناکامی کے بعد بھارت میں آئندہ 114 طیارے خریدنے کی ڈیل پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں، جبکہ بھارتی اپوزیشن کا الزام ہے کہ مودی سرکار اس ناکامی کو چھپانے کے لیے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے سے قاصر ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارتی ریاست پنجاب کے علاقے اکالیا کلان (بھٹنڈا)میں بھارتی طیارے کا ملبہ گرا، مگر متاثرہ خاندان آج بھی معاوضے کے منتظر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…