ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کرکٹ بورڈ میں 6 ارب سے زائد کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

datetime 18  جولائی  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان کرکٹ بورڈ میں 6 ارب روپے سے زائد کی مالی بدانتظامی اور بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق آڈیٹر جنرل کی 2023-24ء کی آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی بی نے مقررہ بجٹ سے 66 کروڑ روپے زائد خرچ کیے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ اسپانسرشپ کی مد میں 5 ارب 34 کروڑ روپے کی رقم ریکور نہیں کی گئی جبکہ میڈیا رائٹس کو ریزرو پرائس سے کم قیمت پر دینے سے 44 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔پاکستان سپر لیگ ( پی ایس ایل ) میچوں کیلئے 14 ذاتی بلٹ پروف گاڑیوں کے باوجود کرائے پر کوسٹرز لینے سے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کا نقصان ہوا جبکہ ان گاڑیوں نے سرکاری خزانے سے 2 کروڑ روپے کا ڈیزل بھی استعمال کیا۔چیئرمین پی سی بی کی جانب سے 41 لاکھ روپے سے زائد کے غیر قانونی اخراجات کیے گئے جو یوٹیلٹی بلز، پیٹرولیم اور ہوٹل رہائش کی مد میں تھے۔

رپورٹ کے مطابق چیئرمین کو بطور وفاقی وزیر مراعات حاصل ہونے کے باوجود اضافی اخراجات کی اجازت نہیں تھی۔ رپورٹ کے مطابق سیکیورٹی پر مامور پولیس نے میچوں کے دوران 6 کروڑ 33 لاکھ روپے کا کھانا کھایا جسے آڈیٹر جنرل نے غیر قانونی قرار دیا جبکہ پولیس حکام کو 20 فکسڈ ڈیلی الائونسز بھی دیئے گئے۔حکام کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر ٹیموں کو وی وی آئی پی سیکیورٹی دی گئی لیکن آڈٹ حکام کے مطابق یہ ذمہ داری متعلقہ صوبائی یا وفاقی حکومت کی تھی۔رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈائمنڈ کرکٹ گرائونڈ اسلام آباد کو 55 لاکھ روپے سے زائد کی غیر قانونی ادائیگی کی گئی جبکہ اسلام آباد کلب نے سرکاری سہولیات کے کمرشل استعمال سے 2 کروڑ 25 لاکھ روپے کمائے۔رپورٹ میں ڈائریکٹر میڈیا کی 9 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ پر تعیناتی اور 81 لاکھ روپے کی ادائیگی بھی غیر قانونی قرار دی گئی۔رپورٹ کے مطابق اوپن مقابلے کے بغیر ٹکٹوں کا 1 لاکھ 20 ہزار ڈالر کا ٹھیکہ، میچ فیس، کوچنگ اسٹاف کی ہائرنگ، براڈکاسٹنگ رائٹس اور بلٹ پروف گاڑیوں کے کرائے میں بھی بے ضابطگیاں پائی گئیں۔آڈیٹر جنرل نے تمام غیر قانونی اخراجات کی وصولی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…