بدھ‬‮ ، 09 ستمبر‬‮ 2026 

قرض کے بدلے بینک میں رکھا کروڑوں کا گولڈ جعلی زیورات سے تبدیل

datetime 26  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ساہیوال ڈویژن کے تاریخی علاقے ہڑپہ میں ایک بڑے فراڈ کا انکشاف ہوا ہے جہاں ایک بینک میں رکھے گئے اصلی سونے کے زیورات کو خفیہ طور پر جعلی زیورات سے بدل دیا گیا۔ اس سنگین معاملے پر حکام کی جانب سے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، اور اب تک 40 سے زائد افراد اپنی شکایات لے کر سامنے آ چکے ہیں۔یہ واقعہ اُس وقت منظرِ عام پر آیا جب فروری کے مہینے میں ہڑپہ کے رہائشی ساجد بشیر نے پنجاب پراونشل کوآپریٹو بینک سے لیے گئے قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد اپنے سونے کے زیورات واپس مانگے۔

ان کا کہنا ہے کہ قرض کی رقم واپس کرنے کے باوجود بینک انتظامیہ نے سونا واپس دینے میں تاخیر کی، اور جب آخرکار زیور لوٹایا گیا تو وہ جعلی نکلا۔اپریل میں ساجد نے بینک کے اعلیٰ حکام کو اس حوالے سے تحریری درخواست دی، جس کے بعد معاملے کی نوعیت سنجیدہ ہوئی اور تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا۔ اب یہ کیس نہ صرف بینک انتظامیہ بلکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ایف آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق اس فراڈ میں بینک کی اسی برانچ کے کم از کم سات ملازمین ملوث ہیں، جن کے ساتھ ایک مقامی صحافی بھی شامل ہے۔ یہ پورا گروہ مبینہ طور پر منظم طریقے سے زیورات کو جعلی سونے سے بدلنے میں مصروف رہا، اور اب تک 40 سے زائد لاکرز متاثر ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر 16 کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ تھا، تاہم اب اندازہ ہے کہ فراڈ کی مالیت 50 کروڑ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔ ایف آئی اے فیصل آباد سرکل میں اس وقت تک چھ مقدمات درج کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید شکایات بھی موصول ہو رہی ہیں۔

فیصل آباد میں ایف آئی اے سرکل کے ایس ایچ او اجمل حسین کے مطابق تحقیقات وسیع پیمانے پر جاری ہیں اور مکمل رپورٹ آنے کے بعد میڈیا کو تفصیلات سے آگاہ کیا جائے گا۔بینکوں سے سونے کے عوض قرض لینا ایک عام عمل ہے، جس میں صارفین کے زیورات کو اسی بینک برانچ میں محفوظ لاکرز میں رکھا جاتا ہے۔ ان لاکرز کی حفاظت کی ذمہ داری بینک منیجر پر ہوتی ہے۔ہڑپہ کے اس کیس میں بینک کے سابق منیجر امانت علی، آپریشن مینیجر نعمان اکرم اور ایک صحافی عمران کو ایف آئی اے نے حراست میں لے رکھا ہے، جبکہ دیگر ملزمان نے 3 جون تک عبوری ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…