اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

نفرت عروج پر اور پاکستان بھارت ایٹمی جنگ کے انتہائی قریب تھے: صدر ٹرمپ

datetime 17  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک انٹرویو کے دوران انکشاف کیا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب پاکستان اور بھارت کے درمیان شدید کشیدگی کے باعث دونوں ایٹمی قوتیں مکمل جنگ کے قریب پہنچ گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نفرت اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ نیوکلیئر جنگ کسی بھی لمحے پھوٹ سکتی تھی۔امریکی میڈیا سے گفتگو میں سابق صدر نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے پر میزائل حملے کر رہے تھے، اور حالات اس نہج تک جا پہنچے تھے کہ معاملہ ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال تک پہنچ سکتا تھا۔

ان کے مطابق، یہ صورتِ حال نہایت خطرناک تھی اور خوش قسمتی سے اس میں شدت آنے سے پہلے ہی قابو پا لیا گیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ان کی انتظامیہ نے پس پردہ سفارتی اقدامات کے ذریعے دونوں ملکوں کو رابطے میں لایا، اور دونوں حکومتوں کو ٹیلی فون کر کے بات چیت پر آمادہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہم نے پاکستان اور بھارت کو پیغام دیا کہ امن کا راستہ تجارت اور تعاون ہے، دشمنی کا نہیں۔”صدر ٹرمپ نے پاکستان سے اپنے ذاتی اور سفارتی تعلقات کو مثبت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پاکستانی قیادت سے ہونے والی گفتگو ہمیشہ خوشگوار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “پاکستان ایک اہم ملک ہے، اور ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ پاکستان کے لوگ ذہین ہیں اور وہاں کی تیار کردہ مصنوعات بھی انتہائی شاندار ہوتی ہیں۔

“انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات اچھے ہونے کے باوجود دونوں ملکوں کے مابین تجارتی روابط محدود ہیں، جو حیران کن بات ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ تجارت کو دشمنیاں ختم کرنے اور امن قائم کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ٹرمپ نے بھارت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دنیا کا واحد ملک ہے جو سب سے زیادہ تجارتی محصولات (ٹیرف) عائد کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہاں کاروبار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت اب امریکہ کے ساتھ تجارتی ٹیرف کم کرنے پر رضامند ہو چکا ہے۔اپنے دورِ صدارت کے کامیاب سفارتی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی ایک چیز ہے جس پر دنیا نے انہیں سب سے زیادہ سراہا، تو وہ پاک بھارت کشیدگی کو کم کرنے میں ان کا کردار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…