اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے حملے سے ایک رات پہلے کیا کام کیا کہ اگلے دن ایس 400 تباہ کرنا انتہائی آسان ہوگیا؟ بھارت کے سابق پائلٹ کا حیران کن انکشاف

datetime 15  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارت کی فضائیہ کے سابق افسر وجیندر کے ٹھاکر نے اپنے ایک تازہ تجزیے میں کہا ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مستقبل کی جنگیں ڈرون ٹیکنالوجی کے گرد گھومیں گی۔ ان کے مطابق چاہے وہ نگرانی ہو، سگنل انٹیلیجنس، کمیونیکیشن ریلے، خودکش حملے یا مسلح کارروائیاں – ہر میدان میں ڈرونز کی اہمیت بڑھ چکی ہے۔

وجیندر ٹھاکر نے یہ تجزیہ “یوریشیا ٹائمز” میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 9 مئی 2025 کی شب پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف ایک منظم ڈرون آپریشن کیا گیا، جس میں تقریباً 400 سے 500 ڈرونز استعمال کیے گئے۔ بھارتی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بھارت کے فضائی دفاعی نظام کے ریڈار اور سگنلز کی نشاندہی کے لیے کی گئی تھی تاکہ حساس مقامات کی پوزیشنز معلوم کی جا سکیں۔

ماہرین کے مطابق، اس ابتدائی مرحلے میں جمع کی گئی معلومات کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان نے 10 مئی کو ایک اور کارروائی کی، جس میں بھارتی ایئر ڈیفنس نیٹ ورک کو الیکٹرانک طریقے سے مفلوج کیا گیا اور کروز میزائل داغے گئے۔ ان حملوں کا نشانہ مبینہ طور پر بھارت کے جدید S-400 دفاعی سسٹمز اور دیگر حساس عسکری تنصیبات تھیں۔پاکستانی میڈیا رپورٹس کے مطابق، درج ذیل مقامات پر حملے کامیاب بتائے گئے
آدم پور میں S-400 نظام کو نشانہ بنایا گیا
سورت گڑھ اور سرسا میں حملے کیے گئے
ناگرونہ میں واقع براہموس میزائل بیس پر کارروائی ہوئی
مختلف توپ خانے کی پوزیشنز کو نقصان پہنچایا گیا
ادھر بھارتی حکام نے ان تمام دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…