اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

ہم چائے بنانے والے کو وزیراعظم بنائیں گے تو یہی ہوگا: بھارت میں صفِ ماتم، مودی پر عوام کا شدیدغصہ

datetime 12  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد/نئی دہلی (نیوز ڈیسک )پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد جنوبی ایشیاء ایک بار پھر تناؤ کی لپیٹ میں آ گیا ہے، مگر اس بار میدان پاکستان کے حق میں جھکتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایک طرف پاکستان کی گلی گلی، کونہ کونہ جیت کا جشن منا رہا ہے، دوسری طرف بھارت میں صف ماتم بچھا ہوا ہے۔پاکستان نے بھارتی فضائی حملوں کا منہ توڑ جواب دے کر نہ صرف اپنی سالمیت کا دفاع کیا بلکہ دشمن کے عزائم کو بھی خاک میں ملا دیا۔

پاکستانی افواج کی بروقت کارروائی اور ڈرون شکن نظام نے بھارت کی عسکری برتری کے تمام دعوے جھوٹے ثابت کر دیے۔ بھارتی حملوں میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہ ملنے کے بعد ملک بھر میں مودی حکومت پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔سوشل میڈیا پر “چائے والے کو وزیراعظم بنائیں گے تو یہی ہوگا” جیسے طنزیہ نعرے عام ہو گئے ہیں۔ بھارتی عوام نریندر مودی کے 56 انچ کے سینے کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اب “56 انچ کے سینے میں 56 انچ کا سوراخ ہو چکا ہے۔”مودی سرکار کے اہم رفقاء، قومی سلامتی مشیر اجیت دوول اور وزیر داخلہ امیت شاہ کو بھی عوامی غصے کا سامنا ہے۔ اور ان دونوں اعلیٰ عہدے داران سے فوری استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ Awam کا کہنا ہے کہ ان کی ناقص پالیسیوں نے بھارت کو عالمی سطح پر شرمندگی سے دوچار کیا ہے۔

دوسری طرف پاکستان میں اس فتح کو قومی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ حکومتی سطح پر جشن کا اعلان کیا گیا ہے، اور عسکری قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر ریلیاں، آتش بازی اور قومی ترانے ہر جانب گونج رہے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف جنوبی ایشیاء کی سیاست بلکہ عالمی طاقتوں کے بیچ توازنِ قوت کو بھی متاثر کرے گا۔ بھارت کی اندرونی سیاسی کمزوریوں اور بڑھتی ہوئی عوامی بے چینی سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی سرکار پر دباؤ آئندہ دنوں میں مزید بڑھے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…