اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی فوجی ناکامی کی دنیا بھر میں گونج، میڈیا نے مودی سرکار پر سوالات کی بوچھاڑ کردی

datetime 10  مئی‬‮  2025 |

نئی دہلی (این این آئی )بھارتی جارحیت کے بعد پاکستان کے تباہ کن جوابی حملوں سے نہ صرف بھارت کے دفاعی نظام کو شدید دھچکا پہنچ چکا ہے بلکہ اب بھارت کے اندر اور دنیا بھر سے سوالات کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔بھارتی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ساتھ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں نے بھی مودی حکومت کی عسکری حکمت عملی، فضائی تحفظ اور قومی سلامتی کی مجموعی صلاحیت پر سخت سوالات اٹھا دیے ہیں۔ادھم پور اور بھٹنڈا جیسے اسٹریٹجک ایئر بیسز پر دن دہاڑے ہونے والی پاکستانی جوابی کارروائی کے بعد بھارتی میڈیا میں ہنگامہ برپا ہے۔

معروف اداروں نے سوال اٹھایا ہے کہ اربوں کے دفاعی بجٹ کے باوجود ان اہم تنصیبات کو محفوظ کیوں نہ رکھا جا سکا۔این ڈی ٹی وی، الجزیرہ اور دیگر بین الاقوامی نیوز چینلز نے بھارتی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے ہائپرسونک میزائلوں نے ادھم پور میں بھارت کے جدید ترین S-400 سسٹم کو تباہ کر دیا، جس کی قیمت 1.5 ارب ڈالر تھی۔پاکستان کی فضائی کارروائیوں میں ادھمپور، آکھنور، بھٹنڈا اور سرسا کے ایئر فیلڈز مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جس سے بھارت کی فضائی برتری کو شدید دھچکا پہنچا۔اسی طرح پاکستان نے سائبر محاذ پر بھی کاری ضرب لگائی ہے اور بی جے پی کی سرکاری ویب سائٹ، مہاراشٹر الیکشن کمیشن اور بھارتی فضائیہ سمیت درجنوں ویب سائٹس ہیک کر لی گئیں۔بھارت کے 2,500 سے زائد نگرانی کے کیمروں کو ہیک کیا جا چکا ہے اور حساس سکیورٹی ڈیٹا لیک ہونے کی اطلاعات نے نئی دہلی کی نیندیں اڑا دی ہیں۔

معروف صحافی کرن تھاپر نے جب دفاعی ماہر پاروین ساومی سے انٹرویو میں بھارتی فوجی ناکامیوں پر بات کی تو ساومی پر ہی پابندی لگا دی گئی۔ اس اقدام پر اظہارِ رائے کی آزادی پر شدید سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔پاکستانی کارروائیوں میں دہرانگیاری میں بھارتی توپ خانہ، ناگروٹا میں براہموس میزائل سٹوریج اور اری فیلڈ ڈپو کو بھی مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے بھاری جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق دنیا کی بہترین فضائیہ شمار ہونے والی پاک فضائیہ نے بھارت کے جدید دفاعی نظام میں موجود نقائص کو عیاں کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…