اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

اگلے 100 دن میں تیسری عالمی جنگ کی پیشگوئی

datetime 6  مئی‬‮  2025 |

نیویارک(این این آئی)خود کو نیا نوسٹراڈیمس کہلوانے والے نجومی کریگ ہیملٹن پارکر نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 100 دنوں میں دنیا کے چار بڑے خطوں میں ایسے فلیش پوائنٹس جنم لے سکتے ہیں جو عالمی سطح پر شدید کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں، حتی کہ تیسری عالمی جنگ کو جنم دے سکتے ہیں۔

امریکی ٹی وی کے مطابق کریگ نے یہ انکشاف ڈونلڈ ٹرمپ کی ممکنہ واپسی کے ابتدائی 100 دنوں کے تناظر میں کیا اور بتایا کہ کائنات سے اس کے روحانی کنکشن نے اسے چند اہم مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں تباہ کن واقعات رونما ہو سکتے ہیں۔کریگ نے سب سے خطرناک امکان تائیوان کے حوالے سے ظاہر کیا، جسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے اور اس کے آس پاس مسلسل فوجی مشقیں کرتا ہے۔کریگ نے پیشگوئی کی: میں دیکھ رہا ہوں کہ چین تائیوان پر بڑا قدم اٹھانے جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ تائیوان کی مدد کو آئے گا لیکن اس کی بہت بڑی قیمت چکانی پڑے گی۔

کریگ ہیملٹن پارکر نے جنوبی ایشیا میں بھی بگڑتی صورتحال کی پیشگوئی کرتے ہوئے کہا، میں پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ابھرتے ہوئے تنازعات دیکھ رہا ہوں۔انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کی فوج نیپال اور پاکستان میں داخل ہو سکتی ہے، اور ٹرمپ اس موقع کو استعمال کرتے ہوئے بھارت سے نئے عسکری اور اقتصادی معاہدے کرے گا تاکہ بھارت کو روس سے مزید دور کیا جا سکے۔مشرقِ یورپ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے پارکر نے دعوی کیا کہ ٹرمپ روس سے ایسا معاہدہ کر سکتا ہے جس کے تحت یوکرین کریمیا پر اپنا دعوی واپس لے لے گا۔کریگ نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کریمیا کو باضابطہ طور پر روس کے حوالے کر دیا جائے گا۔

اس نے خبردار کیا کہ اس کے باوجود یوکرین میں اگست کے آس پاس دوبارہ تشدد بھڑک سکتا ہے۔کریگ کی سب سے چونکا دینے والی پیشگوئی مشرقِ وسطی سے متعلق تھی، جس میں اس نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک معاہدہ ہوگا جس کے تحت غزہ کو اسرائیل میں ضم کر لیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خطے میں مزید غصہ اور بغاوت کو جنم دے گا۔کریگ ہیملٹن پارکر نے مزید کہا کہ عالمی امن کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی ناکامی سے دوچار ہوں گی۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ جون میں ہونے والی عالمی امن کانفرنس اختلافات اور بد نظمی کا شکار ہو کر ناکام ہو جائے گی۔یہ پیشگوئیاں اگرچہ محض نظریاتی بنیادوں پر کی گئی ہیں، لیکن عالمی سیاست اور موجودہ کشیدہ حالات کے تناظر میں ان کی بازگشت دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹی بجا سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…