اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کے امیر ترین شخص نے ڈالر کے عالمی زوال کا اشارہ دے دیا

datetime 5  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی شہرت یافتہ سرمایہ کار وارن بفیٹ نے برکشائر ہیٹھا وے کے سالانہ اجلاس سے اپنے ممکنہ آخری خطاب میں امریکی ڈالر کے مستقبل سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق، انہوں نے اپنی تقریر میں واضح کیا کہ انہیں سب سے زیادہ تشویش کرنسی کے حوالے سے ہے، نہ کہ اسٹاک مارکیٹ یا رئیل اسٹیٹ کے بارے میں۔

وارن بفیٹ، جو 94 برس کے ہو چکے ہیں، کا کہنا تھا کہ امریکہ کی موجودہ مالیاتی غفلت اور غیر ذمہ دارانہ پالیسیاں مستقبل میں ڈالر کی قدر میں خطرناک حد تک کمی کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق، یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اگر امریکہ نے مالیاتی نظم و ضبط اختیار نہ کیا اور اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں نہ کیں تو امریکی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول، کسی بھی کرنسی میں سرمایہ رکھنا ایک بڑا رسک بن جاتا ہے جب اس کرنسی کے پیچھے موجود ریاست خود اسے کمزور کرنے پر تُلی ہو۔

اس اجلاس کے دوران بفیٹ نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں پر بھی سخت تنقید کی، بالخصوص امپورٹس پر لگائے گئے بھاری ٹیکسز کے حوالے سے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجارتی پالیسیوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنا کسی بھی معیشت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

اپنی سرمایہ کاری کی حکمت عملی کے حوالے سے بفیٹ نے کہا کہ طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے اسٹاک مارکیٹ ایک بہتر انتخاب ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اسٹاکس وقت کے ساتھ دیگر سرمایہ کاری ذرائع کے مقابلے میں بہتر منافع دیتے ہیں، جبکہ رئیل اسٹیٹ بعض اوقات پیچیدہ اور محدود صورتحال کا شکار ہو سکتی ہے، خاص طور پر جب معاملات خراب ہوں۔

وارن بفیٹ کے ان خیالات نے عالمی مالیاتی حلقوں اور سرمایہ کاروں کو چونکا دیا ہے، کیونکہ امریکی ڈالر عالمی تجارت اور معیشت کا بنیادی ستون ہے۔ اگر اس کی قدر میں کمی واقع ہوئی تو عالمی منڈیوں میں شدید غیر یقینی صورتحال جنم لے سکتی ہے۔

کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس مضمون کو مختصر کیا جائے یا کسی مخصوص پلیٹ فارم (مثلاً اخبار یا بلاگ) کے ل

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…