اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

شوبز کے بہت سارے مرد اپنی بیویوں پر تشدد کرتے ہیں، رابعہ انعم

datetime 9  اپریل‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی)سابق نیوز اینکر اور ٹی وی میزبان رابعہ انعم نے دعوی کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری کے بہت سارے مرد اپنی بیویوں پر تشدد کرتے ہیں اور ان کی بیویاں چپ چاپ برداشت کرتی ہیں۔رابعہ انعم نے حال ہی میں جیو پوڈکاسٹ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔انہوں نے پوڈکاسٹ کے دوران یہ بھی بتایا تھا کہ وہ ماضی میں ندا یاسر کے مارننگ شو سے کیوں اٹھ کر چلی گئی تھیں اور یہ کہ ان کی ندا یاسر سے کبھی کوئی دشمنی رہی ہی نہیں اور اب ان کے درمیان صلح ہو چکی ہے۔اسی شو میں رابعہ انعم نے بتایا تھا کہ وہ خواتین پر تشدد اور گھریلو تشدد کے خلاف آواز اٹھانے میں متحرک رہی ہیں، انہوں نے ایک فیصلہ لیا اور مہم چلائی، اس لیے اب وہ کسی بھی صورت میں گھریلو تشدد کرنے والوں کے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتیں۔

اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے دعوی کیا کہ شوبز انڈسٹری کے بہت سارے مرد اپنی بیویوں پر تشدد کرتے ہیں اور وہ ایسے بہت سارے جوڑوں کو جانتی بھی ہیں۔ٹی وی میزبان کے مطابق شوبز انڈسٹری کے جو شوہر اپنی بیویوں پر تشدد کرتے ہیں، ان کی بیویاں چپ چاپ برداشت کر رہی ہیں، انہوں نے کبھی شکوہ یا شکایت نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ جب تشدد برداشت کرنے والوں کی بیویاں خاموش ہیں، انہیں کوئی مسئلہ نہیں، وہ گھریلو تشدد برداشت کر رہی ہیں، تو وہ کون ہوتی ہیں، انہیں آواز اٹھانے کے لیے آمادہ کرنے والی؟رابعہ انعم کے مطابق وہ چیمپیئن نہیں ہیں کہ ہر کسی کے پاس جاکر انہیں آواز بلند کرنے کا کہے، جب وہ خود برداشت کر رہی ہیں اور اس بات سے خوش ہیں تو انہیں کیا مسئلہ ہو سکتا ہے؟ٹی وی میزبان کا کہنا تھا کہ شوبز انڈسٹری کے بے انتہا مرد اپنی بیویوں پر تشدد کرتے ہیں اور یہ سب کچھ بند کمروں میں چپ چاپ ہو رہا ہے۔

اگرچہ انہوں نے دعوی کیا کہ شوبز انڈسٹری کے شوہر اپنی بیویوں پر تشدد کرتے ہیں اور ان کی بیویاں چپ چاپ تشدد برداشت کرتی ہیں، تاہم انہوں نے کسی کا بھی نام نہیں لیا۔رابعہ انعم کے دعوے کے بعد شوبز انڈسٹری کی جوڑیوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں جب کہ ماضی میں فیروز خان اور محسن عباس حیدر جیسے اداکاروں پر ان کی بیویاں طلاق کے بعد گھریلو تشدد کے الزامات بھی لگا چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…