پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

میٹھی عید،معدہ پر اچانک بوجھ بیماریوں کو دعوت دینے کے مترادف ہے ‘طبی ماہرین

datetime 29  مارچ‬‮  2025 |

لاہور ( این این آئی)رمضان المبارک کے روزے،عبادات، سحری وافطاری کی طرح عیدالفطرکابھی اپنا مزا ہے لہٰذا عید کی خوشی مناتے ہوئے لوگوں کو کھانے میں اعتدال سے کام لینا چاہئے، خصوصاً شوگر،بلڈپریشر، امراض قلب اورجوڑوں کے درد میں مبتلا افراد کواپنی غذا کاخاص خیال رکھناچاہئے، رمضان المبارک میں تمام اعضا انسانی کوشفا اورآرام میسر آتا ہے لیکن مہینے بھر کے روزے رکھنے کے بعد بعض افراد ایک دن میں ہی خوب کھا پی کر زوال صحت کا شکار ہو جاتے ہیں، اعصابی بیماریاں،ہائی بلڈپریشر،شوگراورپیٹ کی متعدد امراض زیادہ کھانے سے ہی پیدا ہوتی ہیں لہٰذا اچھی صحت کے لئے بد پرہیزی سے بچناچاہئے۔

شہریوں کو غذا کے متعلق آگاہی دیتے ہوئے پروفیسر آف میڈیسن میو ہسپتال ڈاکٹر اسرار الحق طور، اسسٹنٹ پروفیسر آف میڈیسن یونٹ 3لاہور جنرل ہسپتال ڈاکٹر محمد مقصود اور کنسلٹنٹ گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر لیلی شفیق نے کہا کہ فاسٹ فوڈ، سافٹ ڈرنکس سے اجتناب برتا جائے اور چہل قدمی کو معمول بنایا جائے تو ہم کئی امراض اور پیچیدگیوں سے محفوط رہ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عید کے دنوں میں ذیادہ تر افراد اپنی صحت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ کھانے پینے میں بے احتیاطی سے صحت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور عید کی خوشیاں اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کی بجائے ہسپتالوں کا رخ کرنا پڑ جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صحت کیلئے نقصان دہ غذاں میں مضر صحت چکنائی، نمک، چینی، مصنوعی ڈبے کے جوسز اور فاسٹ فوڈز وغیرہ شامل ہیں۔طبی ماہرین نے مزید کہا کہ میٹھی سویاں /پھینیاں ذیابیطس،امراض قلب کے مریضوں اورموٹے افرادکے لئے نقصان کاباعث ہیں کیونکہ ان امراض میں چینی اورگھی کااستعمال صحت کے لئے موزوں نہیں ہے۔ ایسے مریضوں کو مصنوعی سویٹنرز اوربالائی کے بغیردودھ میں سویاں بناکرکھلائی جائیں۔ چونکہ دودھ میں کیلشیم اورفاسفورس کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اس لئے کڈنی کے مریض اسے آدھے کپ سے زیادہ مقدارمیں استعمال نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…