بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

بس بہت ہوگئی۔۔ ایاز صادق عمران خان پر ٹوٹ پڑے

datetime 15  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور(نیوزڈیسک) این اے 122سے نو منتخب رکن قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ اگر عمران خان کو پلیٹ میں رکھ کر بھی این اے 122کی نشست دیدی جائے تب بھی انہیں کوئی نہ کوئی شکایت ضرور ہو گی ،ضمنی انتخاب میں حلقے کے عوام نے عمران خان کے 55ہزار ووٹوں کی دھاندلی کے الزام کو یکسر مسترد کر دیا ، عمران خان قوم کو گمراہ کر رہے ہیں اور جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے سمن آباد میں کارکنوں کا شکریہ ادا کرنے کے موقع پر خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور حلقے کی عوام کی کاوشوں اور محبت سے ضمنی انتخاب میں کامیابی نصیب ہوئی ۔ عمران خان کی الزامات کی سیاست نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں اور حلقے کے لوگوں کی سوچ کو تبدیل نہیں کیا ۔ عوام نے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دے کر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مجھے چنا جس سے فتح آپ کی ہوئی ہے ۔ عمران خان صاحب سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ایسی زبان استعمال کریں جو آپ اپنے بچوں کے لئے استعمال کرنا پسند کریں گے ۔ میں اس علاقے میں ووٹرز ، سپورٹرز کا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں جنہوں نے میری اور (ن) لیگ کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان عام انتخابات میں اس حلقے سے 55ہزار جعلی ووٹوں کا الزام دھرتے تھے لیکن ضمنی انتخاب میں (ن) لیگ کی کامیابی نے ان کے اس الزام کو غلط ثابت کیا ۔ بلدیاتی انتخابات میں یہاں سے عامر فاروق (ن) لیگ کے امیدوار ہیں امید ہے آپ سب مل کر ان کا ہی انتخاب کریں گے تاکہ گلی محلے کے مسائل کوگھر کی دہلیز پر ہی حل کیا جا سکے ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کا مرحلہ 11اکتوبر کو ختم نہیں ہوا بلکہ یہ 31اکتوبر کو بھی ہوگا جس میں (ن) لیگ واضح کامیابی حاصل کرے گی ۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ میں نے قبل از وقت ہی کہہ دیا تھاکہ عمران خان الیکشن کے نتائج کو نہیں مانیں گے وہ پی پی 147کے نتیجے پر تو بات نہیں کرتے لیکن این اے 122کے نتائج پر انگلی اٹھا رہے ہیں۔ اگر انہیں پلیٹ میں رکھ کر بھی این اے 122کی نشست دیدی جائے تب بھی انہیںکوئی نہ کوئی شکایت ضرور ہو گی ۔ وہ قوم کو گمراہ کر رہے ہیںاور جمہوریت کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…