ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

کالاباغ ڈیم،وہ دور گزر چکا جب کابل میں طالبان تخت پر بٹھائے جاتے تھے ،اسفندیارولی خان کے صبر کا پیمانہ لبریز

datetime 14  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور( نیوزڈیسک)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سربراہ اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم ، پاک چائنا کاریڈور ، افغانستان کے امن ، دہشتگردی اور فاٹا کے اصلاحات جیسے بنیادی ایشوز پر اے این پی کی پالیسی بالکل واضح اور اٹل ہے اور ان معاملات پر پختونوں اور صوبے کے مفادات کا ہر صورت اور ہر قیمت پر تحفظ کیا جائیگا۔باچا خان مرکز میں اے این پی کی صوبائی مجلس عاملہ کے اہم اجلاس سے اپنے تفصیلی خطاب میں اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کے علاوہ اندرونی طور پر بہت سے خطرات لاحق ہیں اور ملک واقعتاً بہت پیچیدہ اور نازک دور سے گزر رہا ہے تاہم بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران اور بعض ادارے اب بھی کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے خواہش مند ہیں اور کاریڈور کے ایشو پر بھی نوازشریف سمیت بہت سے حلقے صرف پنجاب کے مفادات کا تحفظ کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم ماضی کے بہت سے طاقتور اور بااختیار حکمران نہ بنا سکے تو موجودہ حکمرانوں کی کیا اوقات ہے کہ اس کی تعمیر کی جرا ت کریں ۔ اگر کسی نے ایسی کوئی جرا ¿ت کی تو ہم صوبے کے مفاد میں ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے۔کاریڈور کے ایشو پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ عمران خان کی طرح وزیر اعظم نوازشریف بھی اپنی پالیسیوں اور اعلانات پر یوٹرن لینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ اور ان کے وزراءاے پی سی کے اس متفقہ فیصلے کی روگردانی کر رہے ہیں جس کے مطابق کاریڈور کے مغربی روٹ پر کام کا آغاز ہونا تھا اورجس سے صوبہ پختونخوا کے مفادات کا تحفظ ممکن ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمیں ایک بار یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ پنجاب ہی پاکستان اور پاکستان ہی پنجاب ہے۔ اگر یہ رویہ تبدیل نہیں کیا گیا اور مخصوص ذہنیت کے ذریعے پاکستان کو چلایا جاتا رہا تو اس کے انتہائی خطرناک نتائج اور اثرات مرتب ہونگے۔ پاکستان ایسی غلطیوں کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔اُنہوں نے کہا کہ افغانستان کے امن سے پاکستان اور خطے کا امن اور استحکام مشروط ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی کی آمد کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کا جو ماحول بن گیا تھا بوجوہ وہ قائم نہ رہ سکا۔ لگ یہ رہا ہے کہ بعض حلقے اب بھی پرانی روش اور پالیسیوں پر چل رہے ہیں تاہم یہ بات واضح کرنا بہت لازمی ہے کہ اگر افغانستان کیلئے امن لازمی ہے تو پاکستان کو امن کی دُگنی ضرورت ہے۔ اے این پی کے سربراہ نے مزید بتایا کہ وہ دور گزر چکا ہے جب طالبان یا ایسے دیگر عناصر کو

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…