بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

پشاور جیل میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا, تفتیش شروع

datetime 14  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور ( نیوزڈیسک)پشاور سینٹرل جیل میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک قیدی اور جیل کے ایک نمبردار سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ سیشن جج کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے واقعہ کی انکوائری شروع کر دی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں کے مطابق قیدی نمبر 75 اور ایک نمبردار کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں ان سے تفتیش کے لیے انھیں ایک روز کے لیے تحویل میں لینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس کے مطابق ان نامزد افراد کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔سینٹرل جیل میں قید ایک 14 سے 15 سال کے بچے نے چند روز پہلے پشاور کے سیشن جج شاہد خان سے شکایت کی تھی کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے اور اس میں جیل کے عملے کے کچھ اہلکار شامل ہیں۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدالتوں کے پریزائیڈنگ افسر بھی ہوتے ہیں جہاں قیدی بچوں کو پیش کیا جاتا ہے۔بچے کی شکایت کے مطابق جیل میں قید بچوں کو قیدیوں کو جنسی زیادتی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اہلکار قیدیوں سے رقم وصول کرتے ہیں۔ بچے نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ دیگر بچوں کے ساتھ بھی یہیں کچھ کیا جاتا ہے تاہم خوف کی وجہ سے کوئی آواز نھیں اٹھاتا۔پولیس نے بتایا کہ بچے نے شکایت میں کہا تھا کہ جیل کے عہدیدار اور نمبردار اسے زبردست ایک قیدی جسے قیدی نمبر 75 کہا جاتا ہے اس کے بیرک میں لے گئے جہاں اسے (بچے) زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاسیشن جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ آصف جدون کی سربراہی میں انکوائری کا حکم دیا تھاایسی اطلاعات ہیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد سینٹرل جیل میں قیدی بچوں کا ریکارڈ اور تفصیلات حاصل کر لیں۔پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جیل کے جن اہلکاروں کو اس میں نامزد کیا گیا وہ چکی کے انچارج ہیں یعنی یہ اہلکار جیل کے اس شعبے کی انچارج ہیں جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جنھیں سخت سزائیں سنائی گئی ہوتی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…