ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

پشاور جیل میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرلیا, تفتیش شروع

datetime 14  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور ( نیوزڈیسک)پشاور سینٹرل جیل میں ایک بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی شکایت کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ایک قیدی اور جیل کے ایک نمبردار سے تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ سیشن جج کے حکم پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے واقعہ کی انکوائری شروع کر دی ۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس اہلکاروں کے مطابق قیدی نمبر 75 اور ایک نمبردار کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا تھا جہاں ان سے تفتیش کے لیے انھیں ایک روز کے لیے تحویل میں لینے کی درخواست کی تھی۔ پولیس کے مطابق ان نامزد افراد کو علاقہ مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔سینٹرل جیل میں قید ایک 14 سے 15 سال کے بچے نے چند روز پہلے پشاور کے سیشن جج شاہد خان سے شکایت کی تھی کہ اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی ہے اور اس میں جیل کے عملے کے کچھ اہلکار شامل ہیں۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج عدالتوں کے پریزائیڈنگ افسر بھی ہوتے ہیں جہاں قیدی بچوں کو پیش کیا جاتا ہے۔بچے کی شکایت کے مطابق جیل میں قید بچوں کو قیدیوں کو جنسی زیادتی کے لیے پیش کیا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اہلکار قیدیوں سے رقم وصول کرتے ہیں۔ بچے نے یہ شکایت بھی کی تھی کہ دیگر بچوں کے ساتھ بھی یہیں کچھ کیا جاتا ہے تاہم خوف کی وجہ سے کوئی آواز نھیں اٹھاتا۔پولیس نے بتایا کہ بچے نے شکایت میں کہا تھا کہ جیل کے عہدیدار اور نمبردار اسے زبردست ایک قیدی جسے قیدی نمبر 75 کہا جاتا ہے اس کے بیرک میں لے گئے جہاں اسے (بچے) زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیاسیشن جج نے جوڈیشل مجسٹریٹ آصف جدون کی سربراہی میں انکوائری کا حکم دیا تھاایسی اطلاعات ہیں کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے بیان ریکارڈ کرنے کے بعد سینٹرل جیل میں قیدی بچوں کا ریکارڈ اور تفصیلات حاصل کر لیں۔پولیس اہلکاروں نے بتایا کہ جیل کے جن اہلکاروں کو اس میں نامزد کیا گیا وہ چکی کے انچارج ہیں یعنی یہ اہلکار جیل کے اس شعبے کی انچارج ہیں جہاں ان قیدیوں کو رکھا جاتا ہے جنھیں سخت سزائیں سنائی گئی ہوتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…