جمعہ‬‮ ، 15 مئی‬‮‬‮ 2026 

آن لائن محبت، بھارتی نوجوان نے پاکستان آکر اسلام قبول کیا، بکریاں چرائیں لیکن محبوبہ نے شادی سے انکار کردیا

datetime 10  فروری‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بھارتی نوجوان محبت میں گرفتار ہو کر پاکستان پہنچا، اسلام قبول کیا مگر شادی نہ ہو سکیبھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے تعلق رکھنے والا 20 سالہ نوجوان بادل بابو سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو کر پاکستان آ پہنچا۔ محبت کے اس سفر میں اس نے اسلام قبول کر کے اپنا نام ریحان رکھ لیا، لیکن جس لڑکی کے لیے وہ یہ سب کر رہا تھا، اس نے شادی سے انکار کر دیا۔

نتیجتاً نہ صرف اس کی امیدیں دم توڑ گئیں بلکہ وہ قانونی مشکلات میں بھی پھنس گیا۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، بادل بابو کی دو سال قبل پاکستانی لڑکی ثنا رانی سے سوشل میڈیا پر دوستی ہوئی، جو وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں بدل گئی۔ اپنی محبوبہ سے شادی کے ارادے سے اس نے واہگہ بارڈر عبور کر کے پاکستان آنے، اسلام قبول کرنے اور شادی کا فیصلہ کیا۔ تاہم، اس کی توقعات اس وقت چکناچور ہو گئیں جب ثنا رانی نے اس کی شادی کی پیشکش مسترد کر دی۔بدقسمتی سے، بادل نہ صرف دل شکستہ ہوا بلکہ وہ قانونی پیچیدگیوں میں بھی پھنس گیا۔ اطلاعات کے مطابق، منڈی بہاؤالدین میں چرواہے کے طور پر کام کرنے والے بادل بابو کو 27 دسمبر 2024 کو گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری کے وقت اس نے خود کو کراچی کا رہائشی ظاہر کرنے کی کوشش کی، مگر تحقیقات کے بعد حقیقت سامنے آ گئی۔نوجوان کے وکیل نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

وکیل کا مؤقف ہے کہ بادل بھارت واپس جانے سے خوفزدہ ہے کیونکہ مذہب تبدیل کرنے کی وجہ سے اسے خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ اس کے آجر حاجی خان اصغر کے مطابق، بادل نے پہلے مزدوری کی درخواست کی، لیکن بعد میں اپنی محبت کی کہانی بیان کی۔ اصغر کا کہنا ہے کہ ثنا اور اس کی والدہ نے ابتدائی طور پر بادل کو گھر بلایا، لیکن حقیقت جاننے کے بعد شادی سے انکار کر دیا، جس کے بعد بادل بے سہارا ہو گیا۔حالیہ پیشرفت کے مطابق، بادل بابو کو اپنے والدین سے بات کرنے کی اجازت دی گئی۔ عدالت کے باہر ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا بادل اپنے والدین سے جذباتی گفتگو کرتا نظر آیا۔ اس کے وکیل کے مطابق، غیر قانونی سرحدی نقل و حرکت کے معاملے کی تحقیقات جاری ہیں، اور کیس کی اگلی سماعت اسی ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘


یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…