ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

بھارت کے نئے خلائی مشن کو رکاوٹوں کا سامنا، سیٹلائٹ خلا میں تکنیکی خرابی کا شکار

datetime 3  فروری‬‮  2025 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت کی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او)کا نیا 100 ویں راکٹ مشن اپنے نیویگیشن سیٹلائٹ میں تکنیکی خرابی کے باعث رکاوٹ کا شکار ہوگیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق اسپیش رسرچ آرگنائزیشن نے رکاوٹوں کا سامنا کرنے والے مشن سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سیٹلائٹ کو متعین مدار تک پہنچانے کے لیے اس کو بلند کرنے کے اقدامات نہیں کیے جا سکے کیونکہ آکسیڈائزر کو تھرسٹرز چلانے کے لیے داخل کرنے والے والوز نہیں کھل سکے۔

رپورٹ کے مطابق یو آر را سیٹلائٹ سینٹر کا تیار کردہ سیٹلائٹ-این وی ایس-02 کو بھارت کے اوپر ایک جیو اسٹیشنری دائرے میں مقررہ مقام تک پہنچانا چونکہ سیٹلائٹ کے سیال انجن کا نظام ٹھیک کام نہیں کر رہا اس لیے اسے اس کے متعین مدار میں بھیجنے کی کوشش میں تاخیر ہو سکتی ہے یا اسے مکمل طور پر ترک بھی کیا جا سکتا ہے۔آئی ایس آر او نے بتایا کہ سیٹلائٹ کا نظام بالکل ٹھیک ہے اور اس وقت سیٹلائٹ بیضوی مدار میں ہے، سیٹلائٹ کو بیضوی مدار میں نیویگیشن کے لیے متبادل مشن کی حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ آئی ایس آر او نے بدھ کو صبح 6:23 بجے کامیابی کے ساتھ اپنا جی ایس ایل وی-ایف 15 راکٹ ریاست آندھرا پردیش کے علاقے سریہری کوٹہ سے لانچ کیا تھا اور اس کے ساتھ آئی ایس آر او کا 100 واں مشن مکمل ہوا۔آئی ایس آر او کے چیئرمین وی نارائنن کی سربراہی میں ادارے کا یہ پہلا مشن تھا اور آئی ایس آر او کا رواں سال کا بھی پہلا مشن ہے۔مقامی خلائی ماہرین کا کہنا تھا کہ سیٹلائٹ اپنے مخصوص کام انجام نہیں دے سکے گا کیونکہ وہ تقریبا 170 کلومیٹر کے قریب ترین نکتے اور زمین سے تقریبا 36 ہزار 577 کلومیٹر دور نکتے کے درمیان ایک مدار میں ہے۔سیکنڈ جنریشن کا دو ہزار 250 کلوگرام وزن کا یہ دوسرا سیٹلائٹ نیویگیشن ود انڈین کانسٹیلیشن کا حصہ تھا، جو عالمی پوزیشننگ سسٹم (جی پی ایس) کا علاقائی متبادل ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت نے این اے وی آئی سی کو 1999 میں پاکستان کے ساتھ کارگل جنگ کے بعد تیار کیا تھا اور اس نے بھارت کے لیے بھی چیلنجز پیدا کیے ہیں، اس تنازع میں بھارت کو اعلی معیار کے جی پی ایس ڈیٹا تک رسائی سے محروم کر دیا گیا تھا اور اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی نے بعد میں ملک کی اسٹریٹجک کمیونٹی کے لیے جی پی ایس کا علاقائی ورژن بنانے کا وعدہ کیا تھا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ بھارت کی جانب سے تیار کیے گئے این اے وی آئی سی سیریز کے کئی سیٹلائٹس توقعات پر پورا نہیں اتر سکے، 2013 کے بعد اس کے تحت مجموعی طور پر 11 سیٹلائٹس لانچ کیے گئے ہیں اور ان میں سے 6 مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل طور پر یا جزوی طور پر ناکام ہو چکے ہیں اور اب تازہ ترین سیٹلائٹ بھی اپنے مشن کے دوران خطرناک تکنیکی مسائل کا شکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…