اتوار‬‮ ، 19 اپریل‬‮ 2026 

نواز شریف کا تختہ الٹنے کے بعد صدر کے منصب پر کیوں فائض رہا؟ رفیق تارڑ

datetime 13  اکتوبر‬‮  2015 |

لاہور (نیوزڈیسک) سابق صدر مملکت محمد رفیق تارڑ نے کہا ہے کہ 12اکتوبر 1999ءکو پرویز مشرف کی طرف سے نواز شریف کا تختہ الٹنے کے بعد مجبوری کے عالم میں صدر کے منصب پر رہا ،میرے ذہن میں یہ بھی خیال تھا کہ اگر خدانخواستہ مشرف کی طرف سے بنائے گئے مقدمات میں نواز شریف کو انتہا کی سزا ہو گئی تو میرے سے جو ہو سکا میں وہ کروں گا ، سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق میں نے استعفیٰ دیا نہ میری بطور صدر مدت پوری ہوئی اس لحاظ سے آصف علی زرداری کے صدر کا حلف اٹھانے تک میں صدر تھا ۔ ایک نجی ٹی وی کو انٹر ویو دیتے ہوئے سابق صدر مملکت رفیق تارڑ نے کہا کہ 12اکتوبر کو نواز شریف میرے پاس آئے اور مجھے ایک کاغذ دیا گیا تھا جس میں مشر ف کو ہٹانے کا فیصلہ تھا اور یہ رسمی طور پر صدر کو دکھایا گیا اور میں نے نیچے لکھ دیا ۔ کیونکہ آئینی طور پر یہ وزیر اعظم کا اختیار تھا اس لئے میں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔ ابھی نواز شریف وہاں سے گئے ہی تھے کہ حالات خراب ہونے کی خبریں آنا شروع ہو گئیں اور جب میں نے نواز شریف سے ٹیلیفون کر کے ان خبروں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہاکہ وہ (فوج )وزیر اعظم ہاﺅس میں آ گئے ہیں اور پھر لائن ڈراپ ہو گئی ۔نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد میں ایک منٹ کےلئے بھی صدر کے عہدے پر نہیں رہنا چاہتا تھا ۔میں نے اپنے بیٹے کو نواز شریف کے والد کے پاس بھیجا اور اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ۔رات کے وقت مجھے پرویز مشرف کا فون آیا اور انہوں نے بتایا کہ میں اسلام آبا د آرہا ہوں اور آپ سے علی الصبح ملاقات کے لئے آﺅں گا اور اور آپ کام جاری رکھیں جس پر میں نے کہا کہ میں کام جاری رکھوں گا یا استعفیٰ دیدوں گا اس بارے میں تین روز میں دوستوں سے مشاورت کرکے بتا دوں گا ۔ میاں محمد شریف مرحوم نے کہا کہ آپ نے صدر کا آفس کسی حال میں نہیں چھوڑنا کیونکہ آ پ کی اشد ضرورت ہے۔ جب پرویز مشرف نے مجھ سے ملاقات کی تو میں نے انہیں کہا کہ آپ نے اپنی سروس کی خاطر اتنا بڑا قدام کیا ہے جس پر انہوں نے کہا کہ میں اکیلا نہیں تھا بلکہ دیگر ساتھی بھی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کو خود بھی یقین نہیں تھا کہ ہم ملک پر قابض ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کا کہنا تھا کہ جب اچھا وقت تھا تو کہتے تھے نواز شریف قدم بڑھاﺅ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور جب پیچھے مڑ کر دیکھا تو سب غائب تھے ، ان کا خیال تھا کہ پرویز مشرف کے اقدام پر احتجاج ہوگا ۔ اسی طرح دو



کالم



گریٹ گیم(دوسرا حصہ)


حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…