جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف کی موجودگی میں گورنر و وزیر اعلیٰ کے پی میں تلخ جملوں کا تبادلہ… گور نر کی تردید

datetime 16  جنوری‬‮  2025 |

پشاور (این این آئی)خیبر پختون خوا کے دارالخلافہ پشاور میں آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی موجودگی میں گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور میں تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق گورنر کی جانب سے این ایف سی ایوارڈ کے ملنے والے 500 ارب روپے کے ذکر پر تلخی ہوئی۔ذرائع کے مطابق وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور نے کہا کہ گورنر جھوٹ بول رہے ہیں، جس کے بعد وزیرِاعلیٰ اجلاس چھوڑ کر باہر چلے گئے۔

اس موقع پر سربراہ اے این پی ایمل ولی نے جملہ کس دیا کہ جانے دو یہ تو بچہ ہے۔وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کچھ دیر بعد واپس اجلاس میں آگئے۔ذرائع کے مطابق گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے وفاق سے کے پی کو انسدادِ دہشت گردی کی مد میں ملے پیسوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ این ایف سی کے تحت انسدادِ دہشت گردی کی مد میں کے پی کو 500 ارب روپے ملے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اربوں روپے ملنے پر پولیس اور سی ٹی ڈی کو کیوں مضبوط نہ کیا گیا۔اس موقع پر میڈیا کی جانب سے گورنر سے سوال کیا گیاکہ اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ سے آپ کی ملاقات خوش گوار رہی تھی؟گورنر خیبر پختون خوا فیصل کریم کنڈی نے جواب دیا کہ آپ کو غلط خبر ملی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…