منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

این اے122،ماضی سے ملتے جلتے نتیجے نے دھاندلی کے الزام کو مسترد کردیا

datetime 13  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)این اے 122ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے ووٹوں کی شرح عام انتخابات جتنی رہی جس نے عمران خان کے دھاندلی کے الزام کو کمزور کیا ہے۔مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کی ضمنی انتخابات این اے 122میں ووٹ حاصل کرنے کی شرح 2013کے عام انتخابات سے ملتی جلتی رہی۔جنگ رپورٹر حذیفہ رحمان کے مطابق ماضی سے ملتے جلتے رزلٹ نے تحریک انصاف کے دھاندلی کے الزام کو مسترد کیا ہے۔2013 کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے ڈالے گئے ووٹوں کا 51.6فیصد حاصل کیا تھا،جبکہ ضمنی انتخابات2015میں یہی شرح 50.6فیصد رہی تھی۔یعنی کہ اس میں صرف ایک فیصد کا فرق آیا ہے۔اسی طرح تحریک انصاف نے عام انتخابات میں کل ڈالے گئے ووٹوں کا 46.8فیصد جبکہ حالیہ ضمنی انتخابات میں 48.7فیصد حاصل کیا۔یعنی اس میں تقریبا 2فیصد کا فرق سامنے آیا ہے۔تحریک انصاف کی حالیہ انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح عام انتخابات سے کچھ بہتررہی۔لیکن مجموعی طور پر دونوں جماعتوں کی حالیہ انتخاب میں ووٹ حاصل کرنے کی شرح وہی رہی جو کہ ماضی کے عام انتخابات میں تھی۔اس سے تحریک انصاف کے اس الزام کی نفی ہوئی ہے جو وہ گزشتہ ڈھائی سال سے لگا رہی ہے کہ سابق چیف جسٹس،آراوز، 35پنکجرز اور نادرا حکام کی ملی بھگت سے انتخابی نتائج کو تبدیل کیا گیا۔2013کے مقابلے میں تمام ریاستی اداروں بشمول فوج کی نگرانی میں کرائے گئے حالیہ ضمنی انتخاب نے عام انتخاب کی ساکھ پراٹھنے والے تمام سوالات کو ختم کردیا ہے۔ پنجاب میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں دلچسپ صورتحال رہی ہے کہ مسلم لیگ ن کو انتہائی کم مارجن سے فتح نصیب ہوئی ہے مگر اس کے مقابلے میں خیبر پختونخوا میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں صوبائی حکومت کے امیدواروں کو بڑے مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…