اتوار‬‮ ، 13 ستمبر‬‮ 2026 

انٹرنیٹ کی سست روی کے ملکی معیشت اور جی ڈی پی پر منفی اثرات، اربوں روپے کا نقصان

datetime 2  دسمبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)انٹرنیٹ کی سست روی اور بندش کے باعث پاکستانی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ایک انٹرویو میںپاکستان سافٹ وئیر ہاؤس ایسوسی ایشن (پاشا) کے چیئرمین سجاد مصطفی سید نے بتایا کہ رجسٹرڈ وی پی این کا مقصد ہے کہ پی ٹی اے نے ایک سسٹم بنایا ہے جس میں ہر یوزر یہ بتائے گا کہ وہ کہاں سے اسٹیٹک آئی ڈی لے رہا ہے، پھر پی ٹی اے اسے اجازت دے گا یا اس شخص نے جہاں پر جانا ہے اس اینڈ کو رجسٹر کرے گا، دونوں اینڈز کو کرے گا یا کم از کم ایک اینڈ کو رجسٹر کرے گا۔

سجاد مصطفی سید نے بتایا کہ وی پی این کی رجسٹریشن کے معاملے پر 30 لاکھ فری لانسرز متاثر ہوں گے اور یہ وہ لوگ ہیں جو 100 سے 200 ڈالر کماتے ہیں، اب انہیں کام ملے گا تو وہ کہیں گے کہ 8 گھنٹے انتظار کریں پی ٹی اے ہمیں اجازت دیگی تو ہم آگے کام کر سکیں گے تو پھر ایسے حالات میں تو کوئی بھی کمپنی انہیں کام ہیں دے گی۔چیئرمین پاشا نے کہاکہ وی پی این کی رجسٹریشن اور انٹرنیٹ کے مسائل کے باعث بڑی آئی ٹی کمپنیوں نے ملک سے باہر جانے کی منصوبہ بندی شروع کر دی ہے اس حوالے سے آئی ٹی ماہرین نے بتایا کہ پاکستان کا عمومی طور پر ٹیلی کام سیکٹر کا منافع 3 ارب روپے یومیہ ہے لیکن انٹرنیٹ کی سست روی کے باعث ملکی معیشت اور جی ڈی پی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔آئی ٹی ماہرین کے مطابق ٹیلی کام سیکٹر کا 60 سے 70 فیصد یومیہ منافع 3 جی، 4 جی نیٹ ورک سے جڑا ہے تاہم انٹرنیٹ کی سست روی کی وجہ سے ٹیلی کام سیکٹر بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…