اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلیں،جسٹس عائشہ کو آئینی بینچ سے الگ کر دیا گیا

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ کی تین رکنی آئینی کمیٹی نے 9 مئی واقعات کے ملزمان کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کیلئے جسٹس عائشہ ملک کو سات رکنی آئینی بینچ سے علیحدہ کر دیا۔جسٹس امین الدین خان کی زیر صدارت آئینی کمیٹی کا تیسرا اجلاس منعقد ہوا جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس محمد علی مظہر نے شرکت کی۔ تین رکنی کمیٹی کے تیسرے اجلاس کے منٹس جاری کر دیے گئے۔

اجلاس میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل بارے کیس مقرر کرنے کا جائزہ لیا گیا۔کمیٹی میٹنگ منٹس کے مطابق جسٹس عائشہ ملک 9 مئی ملٹری کورٹس کیس سن چکی ہیں، فیصلے کے خلاف اپیل سات رکنی انٹرا کورٹ اپیل زیر التوا ہے جس پر سات رکنی آئینی بینچ سماعت کرے گا، ملٹری کورٹس سے متعلق معاملہ جوڈیشل کمیشن کو بجھوایا جاتا ہے، جوڈیشل کمیشن ساتویں ممبر کی نامزدگی کریں۔اجلاس میں آئینی مقدمات کے لیے علیحدہ برانچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آئینی مقدمات کی درجہ بندی کرکے سبز ٹیگنگ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 186 اے کے ایک ہائی کورٹ سے دوسری ہائی کورٹ میں مقدمات کی منتقلی کا اختیار سپریم کورٹ کو حاصل ہے، آئینی بینچ کے ججز کے سامنے روزانہ پانچ چیمبر اپیلیں سماعت کے لیے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور بڑھتے کام سے نمٹنے کے لیے نامزد آئینی ججز نے سول جج کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اجلاس میں آئینی بینچ کے طریقہ اور قواعد و ضوابط سے متعلق رجسٹرار کو ذمہ داری سونپ دی گئی۔ جسٹس محمد علی مظہر کے مشورے سے رجسٹرار سپریم کورٹ قواعد و ضوابط طے کریں گے۔

آئینی بینچ کمیٹی نے کام کا بوجھ کم کرنے کے لیے سول جج کی معاونت مانگ لی ہے، رولز فائنل ہونے تک جلد سماعت کی تمام درخواستیں آئینی بینچ کمیٹی کو پیش کی جائیں گی۔ سپریم کورٹ ٹھوس آئینی اور قانونی سوالات ہونے پر مقدمہ آئینی بینچ کو بھجوا سکتی ہے، ججز کمیٹی کو آئینی بنچ کے لیے سپریم کورٹ میں الگ برانچ قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…