پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

تین سالوں میں 12 مختلف اضلاع میں 50 ہزار لڑکیوں کو اسکول میں داخل کرانے کے منصوبے کا اعلان

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015 |
Pakistani girls attend class at a school...Pakistani girls attend class at a school in Mingora, a town in Swat valley, on October 9, 2013, the first anniversary of the shooting of Malala Yousafzai by the Taliban. Yousafzai, the teenage activist nominated for the Nobel Peace Prize, says she has not done enough to deserve the award, as her old school closed October 9 to mark the first anniversary of her shooting by the Taliban. AFP PHOTO/A MAJEEDA Majeed/AFP/Getty Images

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا گیا ہے جس کے تحت تین سالوں کے دوران ملک بھر سے 12 مختلف اضلاع میں 50 ہزار لڑکیوں کو اسکول میں داخل کیا جائے گا۔لڑکیوں کے حق حصول تعلیم کے پروگرام کا نفاذ مختلف غیر سرکاری اور سماجی تنظیموں کے ذریعے کیا جائے گا اور اس کے لیے 70 لاکھ ڈالر کی رقم ملالہ فنڈز کے ٹرسٹ سے فراہم کی جائے گی۔یہ ٹرسٹ 2014ء میں حکومت پاکستان اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس اور ثقافت “یونیسکو” نے مل کر شروع کیا تھا اور اس کا مقصد دور افتادہ علاقوں میں لڑکیوں کو تعلیم کی بہتر اور معیاری سہولت فراہم کرنا ہے۔پاکستان میں تعلیم کا شعبہ مختلف مسائل کا شکار رہا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف معیار تعلیم متاثر ہو رہا ہے بلکہ اسکولوں میں بچوں کے داخلے اور پھر تعلیم کا سلسلہ جاری رکھنے سمیت اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے میں دشواریوں کا سامنا رہا ہے۔حکومت نے رواں سال ملک بھر میں داخلہ پروگرام شروع کیا تھا جس سے اس ضمن میں کسی حد تک بہتری دیکھی گئی لیکن عالمی سطح پر تعلیم کے لیے وضع کردہ اہداف حاصل کرنے کے لیے ایٹمی صلاحیت کے حامل اس ملک کو ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔تعلیم کے لیے کام کرنے والی ایک موقر غیر سرکاری تنظیم “الف اعلان” کے ایک عہدیدار ڈاکٹر جواد اقبال نے کہا کہ ملک کے 146 اضلاع میں کیے گئے تعلیمی جائزے کے مطابق بہت سے علاقوں میں لڑکوں کی نسبت لڑکیوں کے اسکول میں داخلے کی شرح انتہائی کم ہے اور اس تناظر میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے شروع کیا جانے والا پروگرام خوش آئند ہے۔انہوں نے کہا کہ جیسے مثال کے طور پر ملالہ کا تعلق سوات سے ہے تو اس سے قریبی علاقے شانگلہ میں آپ کو سن کر حیرت ہو گی کہ وہاں لڑکیوں کا ایک بھی کالج نہیں ہے۔یہ مسئلہ پورے ملک میں ہے اور اس سے سب سے زیادہ متاثر لڑکیاں ہوتی ہیں تو اس طرح کا پروگرام اگر شروع ہوتا ہے تو لڑکیوں کے اسکول میں داخلے کے لیے یہ بہت خوش آئند ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کا تعلیمی سلسلہ جاری نہ رکھنے میں ایک بڑی وجہ مرد اساتذہ کی نسبت خواتین اساتذہ کی کم تعداد بھی ہے۔ ان کے بقول ایک اندازے کے مطابق اگر 60 لڑکوں کے لیے ایک استاد ہے تو دوسری طرف 90 لڑکیوں کے لیے ایک استانی ہے جب کہ معیاری تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ ایک استاد کے زیر نگرانی 40 بچے ہونے چاہئیں۔ڈاکٹر جواد کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کے علاوہ ایسے سنجیدہ اقدام پر بھی توجہ دے جس سے ان بچوں کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہونے سے محفوظ رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…