جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

دانیہ شاہ کو عامر لیاقت کی بیوہ نہ لکھا جائے، طلاق ہوچکی تھی، بشری اقبال فتوی سامنے لے آئیں

datetime 29  اکتوبر‬‮  2024 |

کراچی (این این آئی)مرحوم سکالر عامر لیاقت کی سابق و پہلی اہلیہ ڈاکٹر بشری اقبال نے مختلف دینی علما و مدارس سے حاصل کئے گئے فتووں کو شیئر کرتے ہوئے میڈیا اور صحافیوں سے التجاء کی ہے کہ وہ دانیہ شاہ کو عامر لیاقت کی بیوہ نہ لکھیں۔ڈاکٹر بشری اقبال نے سوشل میڈیا پر مختلف علما اور دینی مدارس سے حاصل کئے گئے فتووں کو شیئر کرتے ہوئے قانونی نوٹس میں میڈیا اور صحافیوں کو متنبہ کیا کہ وہ دانیہ شاہ کو عامر لیاقت کی بیوہ لکھنا بند کریں۔

انہوں نے نوٹس میں بتایا کہ تفتیش اور شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ دانیہ شاہ مرحوم عامر لیاقت کی بیوی نہیں تھیں،ان کے مطابق نادرا میں بھی دانیہ شاہ کا مرحوم کی بیوی کے طور پر کوئی ریکارڈ موجود نہیں، ان کا نکاح نامہ بھی نہیں، اسلامی شریعہ قوانین سمیت ملکی قوانین کے تحت دانیہ شاہ کے عامر لیاقت کی اہلیہ ہونے کے شواہد نہیں ملے۔ نوٹس کے مطابق علاوہ ازیں دانیہ شاہ نے عامر لیاقت کی ویڈیوز لیک کیں جس سے ان پر فوجداری مقدمات بھی دائر ہیں، اس لئے انہیں عامر لیاقت کی بیوہ لکھنا، کہنا اور سمجھنا بند کیا جائے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ میڈیا اور سوشل میڈیا والے معاملے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے دانیہ شاہ کو اب عامر لیاقت کی بیوہ لکھنا بند کریں گے۔

انہوں نے پوسٹ میں ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا جس میں عامر لیاقت کے حوالے سے بیان دیا گیا تھا کہ دانیہ ملک جسم فروش تھیں اور انہیں شادی کے بعد اس بات کا علم ہوااور اب انہوں نے انہیں ہمیشہ کیلئے چھوڑ دیا ہے۔ڈاکٹر بشری اقبال نے عامر لیاقت کی مذکورہ پوسٹ کو جواز بناکر مختلف دینی مدارس اور علماء سے فتوے بھی حاصل کئے کر کے شیئر کئے۔فتووں کے مطابق اگر مذکورہ بیان خود عامر لیاقت نے دیا ہے اور اس بات کے شواہد موجود ہیں تو پھر ان کے بیان کے مطابق ان کی دانیہ شاہ سے طلاق بائن ہوگئی۔بشری اقبال نے مذکورہ فتووں کو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ علماء اکرام کی جانب سے جاری فتوئوں میں بھی عامر لیاقت اور دانیہ شاہ کی طلاق کی تصدیق کی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…