منگل‬‮ ، 28 جولائی‬‮ 2026 

ایرانی حکام کا اپنے ملک میں روسی میزائل گرنے کا اعتراف،روس کی تردید

datetime 10  اکتوبر‬‮  2015 |
epa04967432 A handout frame grab taken from a video footage made available on the official website of the Russian Defence Ministry on 07 October 2015 shows a warship of the Caspian Flotilla launching missiles from the deployment area in the south-western Caspian Sea. According to information published on the official website of the Russian Defence Ministry, the warships of the Caspian Flotilla carried out massive strikes against Islamic State facilities in Syria by sea-based cruise missiles which passed through the airspace of Iran and Iraq and hit targets. EPA/RUSSIAN DEFENCE MINISTRY PRESS SERVICE/HANDOUT BEST QUALITY AVAILABLE HANDOUT EDITORIAL USE ONLY/NO SALES

تہران ( آن لائن )ایرانی حکام نے روس کی جانب سے شام میں اپوزیشن کے مراکز پر داغے گئے میزائل بحر قزوین عبور کرتے ہوئے ایران کے اندر گرنے کی خبروں کی تصدیق کی ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی” ارنا” نے ایک حکومتی عہدیدار کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ دو روز قبل روس کے داغے گئے میزائل بحرقزوین پار کرتے ہوئے شمال مغربی ضلع کے اندر جا گرے تھے۔ تاہم روسی حکام نے ان خبروں کی تردید کی ہے مگر امریکا نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوج کی جانب سے شام کے اندر داغے گئے میزائل اپنے ہدف کی طرف بڑھنے کے بجائے ایران کی سرزمین کے اندر جا پہنچے تھے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی مغربی ضلع آذر بائیجان میں ایک طیارہ نما میزائل کو گرتے دیکھا گیا ہے۔ آذر بائیجان میں گر کر پھٹنے والے میزائل سے ایک مکان کو نقصان پہنچا تاہم اس میں کسی جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آسکی ہیں۔آذربائیجان کےایک ضلعی عہدیدار ایرج ثقفی نے بتایا کہ شہر سے35 کلو میٹر دور قزقابان کے مقام پر کم سے کم ایک میزائل گرا جس کے دھماکے اور چھروں سے قربوجوار کے مکانات کو نقصان پہنچا۔ گھروں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔خیال رہے کہ جمعرات کی شام امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ روس کی جانب سے بین البراعظمی فاصلے تک مار کرنے والے چار میزائلوں کے ایران میں پہنچ کر پھٹنے کا دعویٰ کیا تھا۔ یہ میزائل روس کے اندر سے شام میں داغے گئے تھے تاہم ماسکو نے ان خبروں کی تردےد کی ہے ۔



کالم



ہمارا امیرالعظیم


امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…