اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

ملتان، پاکستان کو اننگز کی شکست ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ بن سکتی ہے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2024 |

ملتان (این این آئی)ملتان ٹیسٹ میں آج اگر پاکستان کو اننگز کی شکست ہوتی ہے تو یہ کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب ایک ٹیم اپنی اننگز میں 500 سے زائد رنز بنانے کے بعد اننگز کی شکست سے دوچار ہوئی۔اگر پاکستان اننگز کی شکست سے بچ جاتا ہے مگر ٹیسٹ پھر بھی ہارتا ہے تو یہ مجموعی طور پر صرف 19 واں موقع ہوگا جب ایک ٹیم ٹیسٹ کی ایک اننگز میں 500 یا زائد رنز کرنے کے بعد ہاری ہو۔

اب تک ہونے والے 18 ایسے واقعات میں سے 4 پاکستان سے منسوب ہیں، ان چار میں ایک وہ شکست بھی شامل ہے جو اوول ٹیسٹ کھیلنے سے انکار کی صورت میں ملی، اس کے علاوہ 2006 لیڈز، 1972 میلبرن، 2022 میں راولپنڈی کی شکست بھی شامل ہے۔آسٹریلیا تین مرتبہ اننگز میں 500 رنز کرکے ہاری ہے۔

ان 18 میں سے 17 شکست کے 500 رنز ٹیموں کی پہلی اننگز میں بنے یہاں ٹیم کی اپنی پہلی اننگز، میچ کی دوسری اننگز یعنی دوسری بیٹنگ بھی ہوسکتی ہے۔تاہم اب تک 8 ایسے واقعات ہیں جب ٹیموں نے پہلے بیٹنگ کی ہو، 500 سے زائد رنز کیے ہوں، پھر بھی میچ ہارے ہوں۔لیڈز میں پاکستان کو ملنے والی 167 رنز کی شکست اب تک کسی ایسی ٹیم کی رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی شکست ہے کہ جس میں ٹیم میچ میں اپنی پہلی اننگز میں 500 رنز کیے ہوں۔ہوم گراونڈ پر آسٹریلیا دو مرتبہ 500 رنز کرنے کے بعد شکست سے دوچار ہوچکی ہے، پاکستان دو سال قبل راولپنڈی میں ایسی شکست کا سامنا کرچکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…