بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

لگتا ہے اڈیالہ جیل نہیں پی ٹی آئی کا مرکزی دفتر ہے،اکبر ایس بابر

datetime 2  اکتوبر‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے کہا ہے کہ لگتا ہے اڈیالہ جیل نہیں پی ٹی آئی کا مرکزی دفتر ہے، پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن کے نام پر ناٹک کیا۔الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اکبر ایس بابر نے کہا کہ انٹرا پارٹی کا معاملہ جمہوریت کی بنیاد ہے، سیاسی جماعتیں بادشاہتیں چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انتشار کی سیاست ملک کو نقصان دے رہی ہے، پاکستان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا، یہ ملک کو عدم استحکام کرنے کا ایجنڈا ہے۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ ملک میں بڑی کانفرنس ہونے والی ہے، اس لیے انتشار کی سیاست کی کال دی جا رہی ہے، یہ بین الاقوامی ایجنڈا ہے، قانون پاس کریں کہ جب غیر ملکی شخصیت آئے یا کانفرنس ہو تو اسلام آباد میں دھرنے پر پابندی ہو، خیبر پختون خوا میں ان کے پاس آخری موقع ہے۔پی ٹی آئی کے بانی رکن نے کہا کہ انتشار کی سیاست کی وجہ سے ملک بھر میں ان کی حکومتیں بن نہ سکیں، ورکرز کا بنیادی حق ہے کہ اپنی قیادت کا انتخاب کریں، ہماری سیاسی جماعتوں میں خاندانی بادشاہت ہے۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے جنوری میں پی ٹی آئی کے بانیوں کی کانفرنس منعقد کی، اس میں قرارداد منظور کی، ہم نے اس کانفرنس کے شرکاء کی لسٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرائی، ہم نیالیکشن کمیشن کو کہا کہ ہمیں موقع دیا جائے کہ ہم انٹرا پارٹی الیکشن کرائیں۔اکبر ایس بابر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے سامنے 3 آپشن رکھیں گے، پارٹی کے بانیوں کو انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی اجازت دیں، فروری میں ہم نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی وکیل نامزد کریں جس کے بعد ان سے بات چیت شروع ہو، ہم نے ثالثی کا آپشن الیکشن کمیشن کے سامنے رکھا، الیکشن کمیشن انٹرا پارٹی الیکشن کے قانون کو مکمل طور پر نافذ کرے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…