اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

کے ٹو پر زخمی ہونے والے پاکستانی کوہ پیما مراد سد پارہ جاں بحق

datetime 12  اگست‬‮  2024 |

سکردو(این این آئی)براڈ پیک کی مہم جوئی کے دوران کے ٹو پر زخمی ہونے والے پاکستانی کوہ پیما مراد سد پارہ جاں بحق ہوگئے، الپائن کلب کے نائب صدر ایاز شگری نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔مہم جوئی کا ایک اور باب بند ہوگیا، رواں سال مراد سدپارہ نے کے ٹو کلین اپ سمیت کے ٹو ریسکیو مشن میں حصہ لیا، اس سے قبل وہ کے ٹو سمیت کئی چوٹیوں پر سبزہلالی پرچم لہرا چکے ہیں۔

گزشتہ دنوں براڈ پیک پر مہم جوئی کے دوران ان کے سر پر گہری چوٹ آئی، جس سے وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے جبکہ الپائن کلب کے نائب صدر ایاز شگری کی جانب سے مراد سد پارہ کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔الپائن کلب کے نائب صدر ایاز شگری کے مطابق انہیں 5700 کی بلندی پر حادثہ پیش آیا، پاک فوج نے 4 مقامی کوہ پیماوں کو ریسکیو کے لیے بیس کیمپ پہنچا دیا تھا۔ریسکیو مشن میں 4 مقامی کوہ پیما حصہ لے رہے ہیں، مراد کے جسد خاکی کو مقامی کوہ پیماء بیس کیمپ تک لانے کے لیے کوشش میں مصروف ہیں۔مراد سد پارہ نے رواں سال کے ٹو میں 8200 میٹر کی بلندی سے لاش کو ریسکیو کر کے ریکارڈ قائم کیا تھا، اس کے علاوہ بھی وہ کئی منفرد ریکارڈر کے حامل تھے۔واضح رہے کہ اسکردو میں مراد سد پارہ 8 ہزار 47 میٹر بلند چوٹی براڈ پیک کی مہم جوئی کے دوران زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد پاک فوج نے اسکردو سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما مراد سدپارہ کو بچانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا تھا۔

پاکستانی کوہ پیما نائلہ کیانی نے مراد سدپارہ کو بچانے کے لیے فوج کی مدد طلب کی تھی اور بتایا تھا کہ وہ براڈ چوٹی کے دوران ایک پرتگالی خاتون کوہ پیما کے لیے گائیڈ کے طور پر کام کررہے تھے اور اس دوران تقریباً 5,000 میٹر کی بلندی پر پھسل گئے۔انہوں نے بتایا کہ پرتگالی کوہ پیما نے اپنی چوٹی کے لیے مراد سدپارہ اور ایک نیپالی شیرپا کی خدمات حاصل کی تھیں، ٹیم سمٹ سے واپس آ رہی تھی جب مراد سدپارہ خراب موسم کے دوران کیمپ ایک کے قریب گر گئے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی ایوی ایشن کے ایک ہیلی کاپٹر نے مراد سدپارہ کو بچانے کے لیے دو تجربہ کار کوہ پیماؤں کو براڈ پیک بیس کیمپ پر اتارا تھا۔بعدازاں الپائن کلب آف پاکستان کے سیکرٹری کرار حیدری نے امید ظاہر کی تھی کہ دونوں ریسکیورز صبح بیمار کوہ پیما سے رابطہ کریں گے۔اس حوالے سے ایاز شگری نے بتایا کہ چاروں ریسکیور مراد سد پارہ کی باڈی کو بیس کیمپ لانے کی کوشش کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…