ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

اسکولوں کی تعطیلات بڑھانےکا اعلان

datetime 24  جولائی  2024 |
Summer Vacations in Punjab

کراچی(این این آئی) حکومت سندھ نے موسم گرما کی تعطیلات میں شدید گرمی یا ہیٹ ویو اور مون سون کی وجہ سے مزید 14 روز کا اضافہ کر دیا اور اب کراچی سمیت سندھ بھر میں سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے 15 اگست سے دوبارہ کھولے جائیں گے، جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔حکومت سندھ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بظاہر شدید گری یا ہیٹ ویوو اور مون سون کا جواز پیش کیا گیا ہے تاہم اب اس فیصلے سے پورے سندھ میں تعلیمی سیشن 2024/25 بھی مزید 15 روز کی تاخیر کا شکار ہوگیا ہے کیونکہ 15 اپریل سے شروع ہونا تھا۔

قبل ازیں نگراں حکومت نے جاتے جاتے تعلیمی سیشن کا آغاز کے لیے یکم اگست کی تاریخ دی تھی جس کی بنیادی وجہ ممکنہ طور پر درسی کتب کا سیشن کے آغاز پر دستیاب نہ ہونا تھا تاہم اب بھی یہی گمان کیا جارہا ہے کہ درسی کتب دستیاب نہیں ہیں۔سندھ میں تاحال سرکاری اسکولوں کے ڈائریکٹوریٹس کو درسی کتب کی تقسیم کے حوالے سے سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے کوئی شیڈول بھی موصول نہیں ہوا ہے لہذا موسم کی سختی کے ساتھ ساتھ درسی کتب ہی عدم دستیابی بھی تعطیلات میں توسیع کا سبب بنی ہے۔صوبائی حکومت کے اس فیصلے سے وہ نجی اسکول بھی متاثر ہوں گے جہاں سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کا نصاب نہیں پڑھایا جاتا، ان میں اے اور اولیول کے کیمبرج اسکول بھی شامل ہیں۔

اسی طرح یکم اگست سے سرکاری کالج بھی کھلنے تھے جو اب نہیں کھل سکیں گے، ادھر محکمہ تعلیم کے اعلامیے کے مطابق سندھ کا موسمی حالات کے پیش نظر اسکولوں کی تعطیلات 14 اگست تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی ہدایت پر محکمہ تعلیم نے نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ گرمی کی شدت اور شدید برسات کے امکان کے پیش نظر تعطیلات میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اسکولوں میں 14 اگست کے حوالے سے سرگرمیوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کو جاری رکھا جائے گا اور تمام نجی اور سرکاری اسکول جشن آزادی کے حوالے سے پروگرامز منعقد کریں گے۔حکومت سندھ کے اس فیصلے کے نتیجے میں اب تعطیلات کے بعد سندھ میں نیا تعلیمی سال 15 اگست کو شروع ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…