جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

پانی کی بوتلوں خارج ہونے والے کیمیکلز صحت کے لیے خطرناک قرار

datetime 28  جون‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پانی کی پلاسٹک کی بوتلوں سے دن کی روشنی سمیت کمروں میں موجود لائٹس کی روشنی سے زہریلے کیمیکل کا اخراج ہوتا ہے جو انسانی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔طبی ویب سائٹ کے مطابق رواں برس کی جانے والی تحقیق میں ماہرین نے پینے کے پانی کی بوتلوں کے 6 اقسام پر تحقیق کی اور انہوں نے ان سے سورج اور لائٹ کی روشنی میں کیمیکلز کے اخراج کو جانچا۔ماہرین نے تحقیق کے دوران تمام اقسام کی بوتلوں کو سورج کے باہر رکھ کر ان سے خارج ہونے والے کیمیکلز کا جائزہ لیا۔ساتھ ہی ماہرین نے بوتلوں کو کمروں، دفاتر اور ہوٹلوں کی روشنی میں خاص مدت تک رکھ کر ان سے خارج ہونے والے کیمیکل کا بھی جائزہ لیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ بوتلیں خاص مدت کے بعد سورج یا کمروں میں لگی لائٹس کی روشنی سے کیمیکل خارج کرنے لگتی ہیں جو کہ صحت کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق کس بوتل سے کس طرح کے کیمیکلز کا اخراج ہو رہا ہے، یہ برانڈ کی جانب سے تیار کردہ بوتل میں استعمال ہونے والے کیمیکلز اور پلاسٹک پر منحصر ہے، بعض کمپنیاں خطرناک کیمیکلز اور ناقص پلاسٹک کا استعمال بھی کرتی ہیں۔ماہرین کے مطابق پلاسٹک کی بوتلوں کو کافی عرصے تک استعمال کرنے اور انہیں بار بار سورج اور کمروں میں لگی لائٹس کے دوران استعمال کرنے سے ان سے مختلف اقسام کے کیمیکل خارج ہو سکتے ہیں جو کہ صحت کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ سورج اور کمروں کی روشنی سے بوتلوں سے خارج ہونے والے کیمیکلز کون سے صحت کے مسائل پیدا کرسکتے ہیں، تاہم بتایا گیا کہ ان سے متعدد طبی پیچیدگیاں لاحق ہو سکتی ہیں۔پاکستان سمیت دنیا بھر میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ پانی کی بوتلیں ہاتھ میں لے کر گھومتے یا سفر کرتے ہیں اور بوتلیں نہ صرف کمروں اور دفاتر کی روشنی بلکہ سورج کی روشنی میں بھی ان کے ہاتھ میں ہوتی ہیں اور ایسی بوتلوں کا استعمال کئی ماہ تک کیا جاتا ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…