اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

بابر رو رہے، رضوان نیکھانا نہیں کھایا، ایسا کچھ نہیں ہوتا شاپنگ چل رہی ہوتی ہے،احمد شہزاد برس پڑے

datetime 11  جون‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستانی کرکٹر احمد شہزاد نے پاکستان کی موجودہ ٹیم کے نامور کھلاڑیوں سے متعلق نیا پنڈورا باکس کھول دیا اور کہاہے کہ بابر رو رہے، رضوان نیکھانا نہیں کھایا، ایسا کچھ نہیں ہوتا شاپنگ چل رہی ہوتی ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف 120 رنز کا ہدف حاصل نہ کرنے پر پاکستانی کھلاڑی بالخصوص بلے باز شدید تنقید کی زد میں ہیں۔سابق ٹیسٹ کرکٹر احمد شہزاد نے کہا کہ جب بھی کسی بڑی ٹیم سے مقابلہ ہو اور پریشر بڑھے تو بابر اعظم اور محمد رضوان اسی طرح آئوٹ ہو جاتے ہیں۔

انہوںنے کہاکہ ہم نے کسی نئے آنے والے کھلاڑی کی تربیت نہیں کی، دنیا میں نئے آنے والوں کو تیار کیا جاتا ہے تاہم یہاں پر نئے آنے والوں کو ڈھال بنا کر استعمال کیا گیا، اعظم خان اور صائم ایوب کے خلاف مہم چلوائی گئی، اپنا سارا ملبہ ان پر ڈالا جس کے بعد عوام ان پر تنقید کرتی ہے۔احمد شہزاد نے کہا کہ اس طرح کی خبریں یہ لوگ پھیلاتے ہیں کہ بابر اعظم رو رہے ہیں، رضوان نے تین دن سے کھانا نہیں کھایا، شاداب کو چار دن سے نیند نہیں آرہی، ایسا کچھ نہیں ہوتا، شاپنگ چل رہی ہوتی ہے، ہم بھی اسی ٹیم سے منسلک رہ چکے ہیں، یہ سب چیزیں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہوتی ہیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر نے بابر اعظم اور محمد رضوان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں کھلاڑیوں نے گزشتہ چار سے پانچ سالوں میں سوشل میڈیا پر پیسہ لگا کر اپنے قد اوپر کروا لیے اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔انہوں نے کہا کہ اپنی مرضی سے ان لوگوں نے پیسے بڑھوائے، پھر اپنی گیم اور اسٹرائیک ریٹ بہتر کرنے کے بجائے ان لوگوں نے یہ پیسہ سوشل میڈیا پر لگا دیا۔احمد شہزاد نے کہا کہ اس قسم کی کارکردگی کے بعد آپ لوگ ایجنٹ سے کہہ کر سوشل میڈیا پر پوسٹ لگوا رہے ہوتے ہیں کہ رضوان سو نہیں سکے اور بابر اعظم کھانا نہیں کھا رہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…