جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

کوئٹہ کے علی آغا ،اہلیہ اور چار بچے یونان جاتے ترکیہ کے سمندر میں کشتی ڈوبنے سے جاں بحق

datetime 30  مارچ‬‮  2024 |

کوئٹہ( این این آئی) کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے علی آغا انکی اہلیہ اور چار بچے یونان جاتے ہوئے ترکیہ کے سمندر میں کشتی ڈوبنے سے جاں بحق ہو گئے،علی آغا کے بہنوئی نے تصدیق کی ہے کہ مر حومین کو ترکی کے شہر استنبول میں سپردِخاک کر دیا گیا ۔

کوئٹہ کے علاقے علمدار روڈ کے رہائشی سید علی آغا، ان کی اہلیہ 40 سالہ بی بی طاہرہ، چار بچے 14 سالہ سبحان، 12 سالہ سجاد، 10سالہ فاطمہ اور پانچ سالہ کوثر ترکیہ کے سمندر میں یونان جاتے ہوئے کشتی الٹنے سے جاں بحق ہو گئے انکے اہلخانہ نے تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ 20 مارچ کو ترکیہ سے کسی جاننے وا لے نے ٹیلی فون پر حادثے کی اطلاع دی اور بتایا کہ کوئی بھی زسندہ نہیں بچ سکاہم نے ترکیہ میں پاکستانی سفار تخانے اور ترکیہ حکام سے رابطہ کیا میتوں کو کوئٹہ لانے کا طریقہ کار بہت مہنگا، پیچیدہ اور وقت طلب تھاایک میت کو کوئٹہ لانے کا خرچ کم از کم آٹھ ہزار ڈالر بتایا جا رہا تھاجس پر خاندان نے جا ننے والوں کو انہیں وہیں دفنانے کی اجازت دے دی ۔

علی آغا کے بہنوئی عادل شاہ کے مطا بق سید علی آغا سے انکی بہن کا رشتہ تقریباً 15 سال قبل ہواشادی کے بعد میاں بیوی کوئٹہ میں ہزارہ قبیلے کی ٹارگٹ کلنگ، بے امنی اور مالی مشکلات کے با عث پاکستان چھوڑ کر ہمسایہ ملک ایران منتقل ہو گئے وہاں سے تین چار سال قبل روزگار کی تلاش میں ترکیہ چلے گئے۔ان کا کہنا تھا کا علی آغا کا خواب تھاکہ وہ اپنے بیوی بچوں کو بہتر اور خوشحال مستقبل دے سکیں لیکن ترکیہ میں ان کی زندگی آسان نہیں تھی وہ وہاں تعمیراتی شعبے میں یومیہ اجرت پر کام کرتے تھے اور بمشکل اپنا خرچ پورا کررہے تھے۔ترکیہ حکام کا کہنا ہے کہ کشتی پر سوار افراد کی صحیح تعداد کا تعین نہیں تاہم ڈوبنے والوں کی تلاش کے لئے فضائی اور سمندری آپریشن تاحال جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…