جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پی ٹی آئی کا ہائیکورٹ ججز کے خط کے معاملے پر اوپن کورٹ سماعت کا مطالبہ

datetime 27  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے 6 ججوں کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل کو لکھ گئے خط کے معاملے پر اوپن کورٹ سماعت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ ہائی کورٹ کے 6 ججز دباؤ سے متاثر ہوئے، ججز کو پریشر میں لانے کا ایک ہی مقصد تھا جو ججز نے خط میں لکھا-پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز نے خط میں مداخلت سے آگاہ کیا، ہائی کورٹ کے 6 ججز دباؤ سے متاثر ہوئے، ججز کو پریشر میں لانے کا ایک ہی مقصد تھا جو ججز نے خط میں لکھا۔

انہوں نے کہا کہ ججز نے خط میں لکھا کہ سیاسی مقدمات میں مداخلت کی گئی، عمران خان کے خلاف جتنے کیسز کے فیصلے آئے وہ اس خط کے بعد ختم ہوگئے، خط کے بعد عمران خان کے خلاف مقدمات کی کوئی حیثیت نہیں رہی، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان فیصلوں کو کالعدم قرار دیا جائے اور عمران خان کی فوری رہائی ہو۔انہوں نے کہا کہ ایک جج نے کہا انہیں نہیں معلوم کہ ان کے بچے کہاں ہیں، ایک جج نے کہا ان کے بیٹے کا ولیمہ موخر کرادیا گیا۔بیرسٹر گوہر نے مطالبہ کیا کہ جن ججز نے خط لکھا ان کی اور اہلخانہ کی حفاظت کی جائے، ایسا نہ ہو کہ کمشنر راولپنڈی کی طرح ان کی فیملی بھی کسی کو نظر نہ آئے، سپریم کورٹ اس معاملے پر اوپن کورٹ سماعت کرے، معاملے پر کارروائی نہ ہوئی تو عوام کا عدلیہ سے اعتماد سے اٹھ جائے گا۔انہوں نے کہاکہ پوری قوم عدلیہ کے ساتھ کھڑی ہے، ہمارے لیے ہر جج اہم اور قابل احترام ہے، وکلا سے التجا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے ایک ہوجائیں، آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا ہر کارکن آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے پر لارجر بینچ تشکیل دیا جائے اور اس خط کو عوام کے سامنے لا کر کل سے سپریم کورٹ اس پر سماعت شروع کرے۔اس موقع پر بیرسٹر گوہر کے ہمراہ موجود رہنما پی ٹی آئی عمر ایوب نے کہا کہ ججز کا خط ملک کے انتظامی امور کے خلاف چارج شیٹ ہے، ملک کا نظام بینقاب ہوگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خط میں واضح طور پر لکھا ہے کہ نشانہ صرف ایک شخص تھا جس کا نام قیدی نمبر 804 وزیراعظم عمران خان ہے، انٹیلی جنس ایجنسیز کی جانب سے ججز پر دبائو ڈالا گیا۔انہوںنے کہاکہ ہم سپریم کورٹ اور سپریم جوڈیشل کونسل سے اپیل کرتے ہیں کہ خدارا اقدمات اٹھائیں اور آئین و قانون کی پاسداری یقینی بنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…