جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

بٹن دبا کر سب کچھ ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، وقت لگے گا، محمداورنگزیب

datetime 22  مارچ‬‮  2024 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ بٹن دبا کر سب کچھ ٹھیک نہیں کیا جا سکتا اس میں کچھ وقت لگے گا،ٹیکس دینے والوں پر مزید ٹیکس لگائیں تو اس سے فائدہ کچھ نہیں ہوگا،ایسی ڈائریکشن اپنانی ہے جس میں بہتری کی ضرورت ہے،بجٹ میں مختلف شعبوں میں ٹیکس سے متعلق معاملات پیش کریں گے،پی آئی اے سے متعلق بولیاں جلد آنا شروع ہو جائیں گی،پاکستانی معیشت روزانہ نقصانات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی،اداروں کے خسارے کم کر لیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے ہمیں لانگ ٹرم منصوبے پر کام کرنا ہے،تخمینے کے مطابق ریونیو میں 3ٹریلین روپے کا لیکج ہے،کون سے ایریاز ہیں جن میں کٹوتی لانی ہے اس پر غور کیا جائے گا۔محمد اورنگزیب نے کہاکہ جو وزارتیں تحلیل ہو چکی ہیں ان کو ختم کرنا ہوگا، جو وزارتیں صوبوں کو منتقل ہو چکی ہیں وفاق میں ان کا کردار نہیں ہونا چاہئے، وزارتوں سے متعلق چند ہفتوں میں وزیر اعظم اعلانات کریں گے۔انہوں نے کہاکہ پی ایس ڈی پی کو نجکاری کی طرف لے کر جانا ہوگا،پرائیویٹ پارٹنرشپ سے متعلق سندھ نے بہترین ماڈل اپنایا ہے،این ایف سی فارمولے کو بیلنس آٹ کرنا ہوگا، وفاق اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم پر بیلنس ضروری ہے۔انہوںنے کہاکہ این ایف سی ایوارڈ پر وفاق اور صوبوں میں مشاورت ضروری ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں پر مزید ٹیکس لگائیں تو اس سے فائدہ کچھ نہیں ہوگا،ہو سکتا ہے ٹیکس مزید بڑھانے سے ایک سال اور لگ جائے گا لیکن نقصان ہے۔

انہوں نے کہاکہ ایسی ڈائریکشن اپنانی ہے جس میں بہتری کی ضرورت ہے،بجٹ میں مختلف شعبوں میں ٹیکس سے متعلق معاملات پیش کریں گے، جو شعبے اور ادارے ٹیکس نہیں دیتے ان کیلئے بھی کام کرنا ہوگا۔پی ٹی آئی کی نجکاری سے متعلق وزیر خزانہ نے کہا کہ نجکاری پر پوری کمٹمنٹ ہے اور معاملے کو علیم خان آگے لے کر جا رہے ہیں،پی آئی اے سے متعلق بولیاں جلد آنا شروع ہو جائیں گی۔انہوں نے بتایاکہ نجکاری جون تک مکمل کرنا چاہتے ہیں،اگر یہ بروقت نہیں کی گئی تو مسلسل نقصانات ہوتے رہیں گے، پاکستان کی معیشت روزانہ نقصانات برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ اداروں کے خسارے کم کر لیں تو بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہاکہ بٹن دبا کر سب کچھ ٹھیک نہیں کیا جا سکتا اس میں کچھ وقت لگے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…