جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلانے پر اسپیکر اور گورنر میں آئینی جنگ شدت اختیار کر گئی

datetime 21  مارچ‬‮  2024 |

پشاور (این این آئی)خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس بلانے پر اسپیکر بابر سلیم سواتی اور گورنر غلام علی کے مابین آئینی جنگ شدت اختیار کر گئی ہے۔گورنر کی جانب سے اجلاس بلانے کی قانونی حیثیت جاننے کے لیے اسمبلی سیکرٹریٹ نے اسپیکر کے توسط محکمہ قانون کو خط لکھ دیا۔مراسلے میں کہا گیا کہ کیا گورنر خیبرپختونخوا اپنی صوابدید پر اسمبلی اجلاس بلا سکتا ہے اور کیا اجلاس بلانے کے لیے گورنر وزیر اعلیٰ یا کابینہ کو ایڈوائس کرسکتا ہے۔اسپیکر نے خط میں کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں مخصوص نشستوں سے متعلق کیس جاری ہے لہٰذا گورنر کی جانب سے اجلاس بلانے کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔

رپورٹ کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا غلام علی نے جمعہ، 22 مارچ کو اسمبلی کا اجلاس طلب کیا تھا جس پر نئی حکومت میں بے چینی پائی جاتی ہے اور انہوں نے اجلاس بلانے کو غیرقانونی قرار دیا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا نے ان مخصوص اور اقلیتوں کی نشستوں پر منتخب اراکین کی حلف برداری کے لیے اجلاس طلب کیا ہے جن کا نوٹیفکیشن 4مارچ کو الیکشن کمیشن نے جاری کیا تھا۔گورنر اجلاس طلب کیے جانے کے فوراً صوبائی حکومت نے اس اقدام کو رولز اور آئین کے خلاف قرار دیا تھا۔

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ گورنر اسپیکر سے صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی درخواست کر سکتے ہیں لیکن ازخود اجلاس طلب نہیں کر سکتے۔انہوںنے کہاکہ سیاسی مسائل کھڑے کرنا گورنر کی عادت بن گئی ہے اور اپنی جماعت جمعیت علمائے اسلام کی 8فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں شکست کے بعد انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہو جانا چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ ہم اس حوالے سے اپنی قانونی ٹیم سے رابطہ کررہے ہیں اور گورنر کو مستعفی ہو کر یہ منصب کسی ایسے شخص کو سونپنا چاہیے جو قانون جانتا ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…